اعتراض نمبر ۲۲ : کسی غریب مسکین شخص کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو سو درہم یعنی پچاس روپے یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔
اعتراض نمبر ۲۲
يكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۸۹، ۱۹۰ باب من يجوز دفع الصدقات)
یعنی کسی غریب مسکین شخص کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو سو درہم یعنی پچاس روپے یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔
(درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷)
جواب:
اس کے آگے ہدایہ شریف کی عبارت کیوں نہیں نظر آئی؟
وإن دفع جاز
کہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ دے دے تو جائز ہے۔
اور کراہت بھی اس صورت میں ہے کہ وہ مسکین قرض دار اور صاحبِ عیال نہ ہو۔ اگر قرض دار ہو یا صاحبِ عیال ہو تو دو سو درہم یا اس سے زیادہ دینا کوئی مکروہ نہیں۔ چنانچہ شرح وقایہ اور اس کے حاشیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں