نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام القضاة قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ پر حدیث «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» میں تفرّد و خطا کا اعتراض


امام القضاة قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ پر حدیث «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» میں تفرّد و خطا  کا اعتراض


 امام ابو یعلیٰ الخلیلی نے اپنی تصنیف ’الإرشاد في معرفة علماء الحديث‘ (٢/‏٥٦٩) میں جو کلام نقل کیا ہے، اس کا متن درج ذیل ہے: 

أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي الْأَنْصَارِيُّ صَدُوقٌ فِي الْحَدِيثِ وَمَحِلُّهُ فِي الْفِقْهِ كَبِيرٌ سَمِعَ الْأَعْمَشَ وَأَقْرَانَهُ مِنْ أَشْيَاخِ الْکُوفَةِ وَيَرْوِي عَنِ الضُّعَفَاءِ وَيُخْطِئُ فِي أَحَادِيثَ. قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: لَيْسَ الْحَدِيثُ مِنْ صِنَاعَتِهِ۔ ١٧٣ - وَأَخْطَأَ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ عَنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ التَّيْمِيُّ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ۔ وَالْحَدِيثُ مُخَرَّجُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَقَدْ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ كَتَبَا عَنْهُ كُتُبَهُ ثُمَّ تَرَكَا الرِّوَايَةَ عَنْهُ۔ 

ترجمہ: " ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم القاضی الانصاری حدیث میں سچے (صدوق) ہیں اور فقہ میں ان کا مقام بہت بڑا ہے۔ انہوں نے امام اعمش اور ان کے ہم عصر کوفہ کے شیوخ سے سماع کیا۔ وہ ضعفاء سے بھی روایت کر لیتے ہیں اور بعض احادیث میں ان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ابن خزیمہ نے کہا: حدیث ان کا (خاص) فن نہ تھا۔ اور انہوں نے ایک حدیث میں غلطی کی جو انہوں نے سلیمان التیمی سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ یہ حدیث دراصل سلیمان التیمی نے سیّار بن سلامہ ابو المنہال سے، انہوں نے ابو برزہ رضی عنہ سے، اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث صحیحین میں سلیمان التیمی اور دیگر راویوں کے طریق سے ابو المنہال، ابو برزہ کے واسطے سے مروی ہے۔ اور امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے پہلے ان سے احادیث لکھیں، پھر ان سے روایت کرنا ترک کر دیا۔

جواب : 

اول: تعددِ اسانید اور متن کی یکسانیت

امام دارقطنی، امام ابن خزیمہ اور ابو یعلیٰ الخلیلی رحمہم اللہ کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے اس روایت کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کر کے خطا کی ہے، کیونکہ دیگر محدثین اسے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ یہ روایت حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے منقول اور مشہور ہے، لیکن  ایک ہی مضمون کی حدیث ایک سے زائد صحابہ کرام سے صادر ہو سکتی ہے۔ یہاں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی وہی مضمون اور وہی روایت نقل ہو رہی ہے جو ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ لہذا، امام ابو یوسف جیسے جلیل القدر اور "صدوق" راوی پر محض اس تفرّد کی بنا پر اعتراض کرنا اصولِ جرح و تعدیل کے مزاج کے خلاف ہے، کیونکہ ثقہ کا تفرّد مقبول ہوتا ہے نہ کہ مردود۔

دوم: ضعفاء سے روایت کرنا ثقاہت کے منافی نہیں

اعتراض کیا کہ امام ابو یوسف بعض اوقات ضعفاء سے بھی روایت کر لیتے تھے، جس کی وجہ سے ان سے خطائیں سرزد ہوئیں۔

عرض ہے کہ امام یحییٰ بن معین کا اپنا ایک سخت تر مزاج تھا کہ وہ صرف ان شیوخ سے روایت کرتے تھے جو ان کے نزدیک غایت درجے کے ثقہ ہوں، جبکہ ان کے برعکس جلیل القدر ائمہ جیسے امام شعبہ بن الحجاج، سفیان ثوری اور خود قاضی ابو یوسف رحمہم اللہ کا طریقہ کار وسعتِ علمی پر مبنی تھا؛ وہ بعض اوقات ثقہ شیوخ کے ساتھ ساتھ ضعفاء سے بھی احادیث لکھ لیا کرتے تھے تاکہ شواہد و متابعات کا علم ہو سکے۔ اگر ضعفاء سے روایت کرنے یا کسی جگہ ندرتِ حفظ کی وجہ سے ادنیٰ خطا کو جرح کا سبب مانا جائے، تو پھر امام شعبہ اور سفیان ثوری کی ثقاہت پر بھی حرف آنا چاہیے، جبکہ ایسا کوئی بھی عاقل نہیں کہتا۔ پس ثابت ہوا کہ اس طرزِ عمل سے امام ابو یوسف کی اپنی ثقاہت اور صدق پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

سوم: خطائے فاحش کے دعوے کا بطلان

امام ابن خزیمہ کا اس روایت پر امام ابو یوسف کی جانب "خطائے فاحش" منسوب کرنا فہم سے بعید تر ہے۔ اصل خطا تو تب شمار ہوتی جب سلیمان التیمی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع  ثابت نہ ہوتا، یا قاضی صاحب سند کے درمیان سے کوئی راوی گرا کر "تدلیس" کے مرتکب ہوتے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سلیمان التیمی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع بالکل ثابت اور معروف ہے۔ اب جب سماع ثابت ہے، تو قوی امکان ہے کہ سلیمان التیمی نے یہ حدیث سیّار بن سلامہ ابو المنہال کے واسطے سے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو (جو کہ مشہور طریق ہے)، اور انہوں نے براہِ راست حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت سنی ہو جو قاضی صاحب نے بیان کی ہے۔ جب متن میں کوئی اختلاف ہی نہیں اور دونوں صحابہ کا بیان کردہ مضمون ایک ہی ہے، تو اسے "خطائے فاحش" کہنا چہ معنی دارد؟

چہارم: امام ضیاء الدین مقدسی کی تصحیح کا جاندار شاہد

ناقدین کے اس وہم کو دور کرنے کے لیے امام ضیاء الدین المقدسی الحنبلی رحمہ اللہ کی کتاب ’الأحاديث المختارة‘ (٦/‏١٥٩) کا حوالہ ہی کافی ہے، جہاں انہوں نے اس سند کو نہ صرف نقل کیا بلکہ اس کی صحت پر مہرِ تصدیق ثبت کی:

٢١٥٨ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ الْفَاخِرِ - بِأَصْبَهَانَ - أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَبْنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمَدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبْنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، أَبْنَا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ، أَبْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ «كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى مِائَةِ آيَةٍ». قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي. لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَرْزَةَ۔

امام مقدسی کا اپنی کتاب "المختارہ" (جس میں وہ صرف صحیح احادیث لانے کا التزام کرتے ہیں) میں اس روایت کو جگہ دینا اس بات کی بین دلیل ہے کہ امام ابو یوسف کی یہ سند ان کے نزدیک بالکل صحیح اور قابلِ احتجاج تھی، اور امام دارقطنی کا تفرد کا قول اس کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

پنجم: مرسل روایات سے تائید و تقویت

اس مضمون کی صحت پر ایک اور مضبوط شاہد امام عبد الرزاق الصنعانی نے اپنے المصنف‘ (٢/‏٣٦٥) میں نقل فرمایا ہے:

٣٧٢٤ - عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: «قَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ فِي الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِسِتِّينَ آيَةً، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ، فَقَرَأَ فِيهَا ثَلَاثَ آيَاتٍ»

"امام سفیان ثوری، ابو السوداء سے اور وہ عبد الرحمن بن سابط سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فجر کی پہلی رکعت میں ساٹھ آیات تلاوت فرمائیں، پھر جب آپ ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو کسی بچے کے رونے کی آواز سنی، تو اس (دوسری رکعت) میں صرف تین آیات تلاوت فرمائیں۔"

وجہِ استدلال:

اس مرسل روایت میں جلیل القدر تابعی عبد الرحمن بن سابط بھی بعینہٖ وہی مضمون (فجر میں ساٹھ آیات کی تلاوت) بیان کر رہے ہیں جو امام ابو یوسف نے سلیمان التیمی عن انس کی سند سے بیان کیا ہے۔ اس متابعتِ معنوی کے بعد اب امام ابو یوسف کی روایت پر کسی قسم کے شک و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

ترکِ روایت کے دعوے کی حقیقت

امام خلیلی نے جو یہ تحریر فرمایا کہ امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین نے قاضی ابو یوسف سے روایت کرنا ترک کر دیا تھا، یہ دعویٰ بھی تحقیق کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ امام یحییٰ بن معین نے ان سے ترکِ روایت نہیں کیا تھا، بلکہ وہ خود ان سے احادیث نقل کرتے ہیں۔ جہاں تک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا تعلق ہے، تو امام احمد خود قاضی صاحب کو صدوق مانتے تھے،  قاضی صاحب "اہلِ الرائے" (فقہائے کوفہ) کے سرخیل تھے، اور اس دور میں اہل الحدیث اور اہل الرائے کے مابین پائے جانے والے معاصرانہ علمی و اجتہادی اختلافات کی بنا پر امام احمد ان کے طریق سے روایت کرنے میں احتیاط برتتے تھے۔

حاصلِ کلام:

قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ حدیث کے میدان میں سچے، ثقہ اور متبحر تھے اور ان پر کیے گئے یہ تمام اعتراضات اصولِ جرح کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

تبصرے