اعتراض نمبر ۴۲:
من وطئ بهيمة فلا حد عليه. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٥ باب الوطء الذي يوجب)
یعنی جو شخص چوپائے سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں۔
(درایت محمدی، ص ۹۸، ہدایت محمدی ص ۱۰)
جواب:
اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کو سزا نہ دی جائے۔ ہدایہ میں ہے:
إلا أنه يعزر.
ہاں! اس کو سزا دی جائے۔
اس مسئلہ میں حدِ زنا (رجم یا جلد) کی نفی ہے، مطلق سزا کی نفی نہیں۔ وہ بھی اس لیے کہ کسی حدیث میں نہیں آیا کہ چوپائے سے بدفعلی کرنے والے کو سنگسار کر دو یا سو کوڑے لگاؤ۔
ترمذی جلد ۱ ص ۷۶ میں ابن عباس سے آیا ہے:
من أتى بهيمة فلا حد عليه.
چوپائے سے بدفعلی کرنے والے پر حد (زنا) نہیں۔
یہی قول احمد و اسحاق کا ہے۔ اب کہیے ابن عباس کے بارے میں کیا رائے ہے؟
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں