نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۳۲: ایک عورت نے ایک مرد پر جھوٹا دعویٰ کیا کہ اس سے اس کا نکاح ہے اور جھوٹے گواہ گزار دیے۔ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا حالانکہ حقیقتاً نکاح نہیں ہوا تو اب ان دونوں کو یکجا رہنا سہنا اور مجامعت اور صحبت کرنا سب جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔

 


اعتراض نمبر ۳۲:


من ادعت عليه امرأة أنه تزوجها وأقامت بينة فجعلها القاضي امرأته ولم يكن تزوجها وسعها المقام معه وأن تدعه يجامعها وهذا عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۹۳ بيان المحرمات)


یعنی ایک عورت نے ایک مرد پر جھوٹا دعویٰ کیا کہ اس سے اس کا نکاح ہے اور جھوٹے گواہ گزار دیے۔ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا حالانکہ حقیقتاً نکاح نہیں ہوا تو اب ان دونوں کو یکجا رہنا سہنا اور مجامعت اور صحبت کرنا سب جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸)


جواب:


معلوم نہیں کہ معترض نے نکاح کیا سمجھ رکھا ہے۔ عورت نکاح کا دعویٰ کرتی ہے اور گواہ بھی موجود ہیں۔ قاضی وہ مرد عورت کو دلا دیتا ہے۔ مرد اس فیصلہ کو قبول کر لیتا ہے تو یہی فیصلہ اس کے حق میں نکاح ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا۔ دیکھو رسالہ "بعض الناس"۔


یہ مسئلہ کسی حدیث صحیح کے خلاف نہیں۔ اگر معترض اس مسئلہ کو کسی حدیث صحیح کے مخالف سمجھتا ہے تو وہ حدیث مع وجہِ مخالفت و طریقِ استدلال لکھے۔


حدیث "لعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته" اس مسئلہ کے مخالف نہیں ہے۔ دیکھو لعان میں قاضی کی تفریق ظاہر و باطن جاری ہو جاتی ہے حالانکہ ان دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہوتا ہے۔


اسی طرح معترض کے نزدیک مفقود کی عورت پر چار برس کے بعد قاضی تفریق کر سکتا ہے، پس کیا یہ تفریق باطن میں نہیں ہوتی؟ کیا وہ عورت اللہ کے نزدیک مطلقہ نہیں ہو جاتی؟ اگر ہو جاتی ہے تو ثابت ہوا کہ قاضی کی قضا باطن میں بھی نافذ ہو جاتی ہے۔ چونکہ مقصودِ قضا سے قطعِ منازعہ من کل الوجوہ ہے تو ما نحن فيه جب تک تقید باطناً نہ ہو قطعِ نزاع نہ ہوگی بلکہ تمہیدِ منازعت ہوگی۔


علامہ عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری کے ص ۲۷۱ میں لکھتے ہیں:


أبو حنيفة إمام مجتهد أدرك صحابة ومن التابعين خلقا كثيرا وقد تكلم في هذه المسئلة بأصل وهو أن القضاء يقطع المنازعة بين الزوجين من كل وجه، فلو لم ينفذ القضاء بشهادة الزور باطنا كان تمهيدا للمنازعة بينهما، وقد عهدنا نفوذ مثل ذلك في الشرع، ألا ترى أن التفريق باللعان ينفذ باطنا وأحدهما كاذب باليقين.


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...