اعتراض نمبر ۳۴ : زانی کو سنگسار کرنے کے وقت پہلے گواہ سنگ باری شروع کریں اور اگر وہ نہ کریں تو حد ساقط ہو جائے گی۔ یعنی زانی کو بھی پھر رجم ہی نہ کیا جائے گا۔
اعتراض نمبر ۳۴
فإن امتنع الشهود من الابتداء سقط الحد. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ٤٨٨ فصل كيفية الحد)
یعنی زانی کو سنگسار کرنے کے وقت پہلے گواہ سنگ باری شروع کریں اور اگر وہ نہ کریں تو حد ساقط ہو جائے گی۔ یعنی زانی کو بھی پھر رجم ہی نہ کیا جائے گا۔ (درایت محمدی، ص ۹۶، ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
خود صاحب ہدایہ نے لکھا ہے:
لأنه دلالة الرجوع
کہ گواہوں کا ابتدائے رمی نہ کرنا ان کے رجوع پر دلالت کرتا ہے اگرچہ صریح رجوع نہیں۔
یعنی ہو سکتا ہے کہ گواہوں نے زنا کی شہادت تو دے دی ہو اور شہادت کے وقت ایسا کوئی خیال نہ آیا ہو، لیکن جب رجم کرنے لگے، جب ان کو سب سے پہلے سنگساری کے لیے کہا گیا تو انہوں نے ایک آدمی کے قتل کو امرِ عظیم سمجھ کر سنگ باری نہ کی ہو اور اپنی شہادت سے ممکن ہے کہ رجوع کر لیا ہو۔ گواہوں کا سنگ باری نہ کرنا ان کے رجوع پر دلیل ہے، لہٰذا حد ساقط ہوگئی۔
خود سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم
جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے حد کو روکو۔
اگر کوئی بھی وجہ ہو سکے تو زانی کو چھوڑ دو۔ قاضی اگر معافی میں خطا کر جائے تو اس سے بہتر ہے کہ سزا میں خطا کرے۔ اس کو ترمذی نے روایت کیا۔
گواہوں کا چونکہ صریح رجوع نہیں اس لیے سنگ باری نہ کرنے سے ان پر بھی حد نہ ہوگی۔ ممکن ہے کہ انہوں نے سنگ باری سے انکار محض ضعفِ نفوس کے سبب کیا ہو، جیسے بعض کمزور دل جانور ذبح نہیں کر سکتے اور بعض تو ذبح کے وقت سامنے بھی نہیں ٹھہرتے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں