اعتراض نمبر ۲۳:
كالمستمني بالكف على ما قالوا. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۹۹ باب ما يوجب القضاء)
یعنی مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حنفی مذہب کے فقہاء نے یہی کہا ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷)
جواب:
معترض نے اگر کتبِ فقہ کسی استاد سے پڑھی ہوتیں تو اسے معلوم ہوتا کہ صاحب ہدایہ لفظ "قالوا" کہتے ہیں تو اس کی مراد کیا ہوتی ہے۔ یہاں بھی صاحب ہدایہ نے "على ما قالوا" کہا ہے۔
شیخ عبد الحئی مقدمہ عمدۃ الرعایہ کے ص ۱۵ میں فرماتے ہیں:
لفظ قالوا يستعمل فيما فيه اختلاف المشائخ، كذا في النهاية في كتاب الغصب، وفي العناية والبناية في باب ما يفسد الصلاة، وذكر ابن الهمام في فتح القدير في باب ما يوجب القضاء والكفارة من كتاب الصوم أن عادته أي صاحب الهداية في مثل إفادة الضعف مع الخلاف انتهى، وكذا ذكره سعد الدين التفتازاني أن في لفظ قالوا إشارة إلى ضعف ما قالوا.
لفظ "قالوا" وہاں بولتے ہیں جہاں مشائخ کا اختلاف ہو۔ نہایہ کے کتاب الغصب اور العنایہ والبنایہ کے باب ما يفسد الصلاة میں ایسا ہی لکھا ہے۔ ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ کی عادت اس لفظ کے مثل سے ضعف مع الخلاف کا افادہ ہے، یعنی جہاں اختلاف ہو تو ضعیف قول پر صاحب ہدایہ لفظ "قالوا" بولتے ہیں۔ اسی طرح سعد الدین تفتازانی نے کہا ہے کہ لفظ "قالوا" میں ضعف کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
ہدایہ شریف کے حاشیہ پر لکھتا ہے:
قوله على ما قالوا عادته في مثله إفادة الضعف مع الخلاف، وعامة المشائخ على أن الاستمناء يفطر، وقال المصنف في التجنيس إنه المختار.
صاحب ہدایہ کی عادت ہے کہ "قالوا" اور اس کی مثل بول کر ضعف مع الخلاف کا فائدہ بتاتے ہیں، اور اکثر مشائخ اس طرف ہیں کہ مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ خود صاحب تجنیس نے اس کو مختار فرمایا ہے۔
معلوم ہوا کہ صاحب ہدایہ نے لفظ "قالوا" سے اس قول کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس قول کو خود مصنف ضعیف کہے اس کو محلِ طعن بنانا غیر مقلدین ہی کا وطیرہ ہے۔
فتاویٰ عالمگیری ص ۱۶۳ میں ہے:
الصائم إذا عالج ذكره حتى أمنى عليه القضاء وهو المختار وبه قال عامة المشائخ.
روزہ دار نے اگر مشت زنی کی اور منی نکل آئی تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر قضا لازم ہے۔ یہی مختار ہے اور عامۃ المشائخ اسی پر ہیں۔
اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ معترض نے کم علمی یا تعصب کی بنیاد پر احناف کے خلاف فتنہ پروری کی ہے۔ معترض کو واضح ہو کہ مشت زنی کو غیر مقلدین نے جائز لکھا ہے۔ دیکھو عرف الجاری۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں