اعتراض نمبر ۳۱: کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اور اس سے نکاح کر لیا تو اس سے ہم بستر ہونا جائز ہے اور کچھ ضرورت نہیں کہ ایک حیض تک ٹھہرے۔
اعتراض نمبر ۳۱:
إذا رأى امرأة تزني فتزوجها حل له أن يطأها قبل أن يستبرئها عندهما. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۹۲ فصل في المحرمات)
یعنی کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اور اس سے نکاح کر لیا تو اس سے ہم بستر ہونا جائز ہے اور کچھ ضرورت نہیں کہ ایک حیض تک ٹھہرے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸)
جواب:
اگر زنا کی عدت کسی حدیث میں آئی ہے تو بیان کرو، دونه خرط القتاد۔ جب نکاح درست ہے تو جماع بھی درست ہے۔ ہاں اگر حاملہ ہو تو اس سے نکاح درست ہے لیکن وطی درست نہیں۔ چنانچہ ہدایہ شریف میں اس سے پہلے تصریح ہے:
وإن تزوج حبلى من الزنا جاز النكاح ولا يطؤها حتى تضع حملها.
اگر حاملہ بالزنا سے نکاح کیا تو نکاح جائز ہوا لیکن وضعِ حمل تک وطی جائز نہیں۔
پس معترض اس مسئلہ کے خلاف کوئی آیت یا حدیث پیش کرے ورنہ اعتراض واپس لے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں