اعتراض نمبر ۲۵ : مردہ عورت سے یا چوپائے سے بدفعلی کرنے سے روزہ کا کفارہ نہیں آتا، انزال نہ ہوا ہو تب بھی اور انزال ہو گیا ہو تب بھی۔
اعتراض نمبر ۲۵
لو جامع ميتة أو بهيمة فلا كفارة، أنزل أو لم ينزل. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۰۱ باب ما يوجب القضاء)
مردہ عورت سے یا چوپائے سے بدفعلی کرنے سے روزہ کا کفارہ نہیں آتا، انزال نہ ہوا ہو تب بھی اور انزال ہو گیا ہو تب بھی۔
(درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۷)
جواب:
بتاؤ یہ مسئلہ کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ چونکہ حدیث شریف میں ایسے شخص کے لیے کوئی کفارہ نہیں آیا، اس لیے حضرات فقہاء علیہم الرحمہ نے کفارہ نہیں فرمایا۔ کفارہ ایسے جماع میں ہے جو محلِ مشتہیٰ میں ہو۔ مردہ عورت یا بہیمہ میں چونکہ محلِ مشتہیٰ نہیں اس لیے کفارہ بھی نہیں۔ اگر معترض کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو بیان کرے ورنہ ائمہ پر بے دلیل طعن بازی سے باز رہے۔
اس سے کوئی کم فہم یہ نہ سمجھ لے کہ حنفیہ کے نزدیک مردہ عورت یا چوپایہ سے وطی کرنا جائز ہے۔ معاذ اللہ ہرگز نہیں۔ یہاں تو صرف اس قدر ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ کی حالت میں ایسا کر بیٹھے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن کفارہ نہیں، کیونکہ حقیقتاً جماع پایا نہیں گیا۔ اس فعل کی سزا ہدایہ میں دوسرے مقام پر بیان کی گئی ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں