اعتراض نمبر ۴۱ : جو شخص کفار کی حکومت میں یا باغیوں کی حکومت کے علاقہ میں زنا کرے پھر اسلامی حکومت میں آ جائے تو اس پر زنا کاری کی کوئی حد نہیں۔
اعتراض نمبر ۴۱
من زنى في دار الحرب أو في دار البغي ثم خرج إلينا لا يقام عليه الحد. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٥ باب الوطء الذي يوجب الحد)
یعنی جو شخص کفار کی حکومت میں یا باغیوں کی حکومت کے علاقہ میں زنا کرے پھر اسلامی حکومت میں آ جائے تو اس پر زنا کاری کی کوئی حد نہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۸، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
معترض اگر فتح القدیر کا یہ مقام دیکھتا تو اسے حدیث مل جاتی اور شاید وہ اعتراض نہ کرتا۔ وہ حدیث یہ ہے:
روى محمد في السير الكبير عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من زنى أو سرق في دار الحرب وأصاب بها حدا ثم هرب فخرج إلينا فإنه لا يقام عليه الحد.
السیر الکبیر میں امام محمد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: جو شخص دار الحرب میں زنا یا چوری کرے اور حد کو پہنچ جائے پھر وہاں سے بھاگ کر اسلامی حکومت میں پہنچ جائے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔
معترض چونکہ اعتراض کر چکا ہے اس لیے امید نہیں کہ وہ اپنے قول کے خلاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو دیکھ مان جائے بلکہ اس پر کوئی نہ کوئی اعتراض ہی کرے گا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں