نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۳۰: ایک شخص نے اپنی بیوی کو بائن طلاق دے دی یا رجعی، جب تک اس کی عدت نہ گزر جائے وہ مرد اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ (عورت کی عدت تو سنی تھی، یہ مرد کی عدت بھی سن لیجیے)

 


اعتراض نمبر ۳۰:


إذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في المحرمات)


یعنی ایک شخص نے اپنی بیوی کو بائن طلاق دے دی یا رجعی، جب تک اس کی عدت نہ گزر جائے وہ مرد اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ (عورت کی عدت تو سنی تھی، یہ مرد کی عدت بھی سن لیجیے) (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸)

جواب:

بالکل صحیح ہے کیونکہ یہ جمع بین الاختین ہے جو قرآن نے منع فرمایا ہے۔ گو یہ جمع نکاحاً نہیں لیکن عدۃً ضرور ہے۔ عدت میں اگرچہ مرد کا نکاح باقی نہیں لیکن من وجہ اس کا تعلق باقی رہتا ہے۔ ہدایہ شریف میں ہے:


ولنا أن النكاح الأول قائم لبقاء أحكامه كالنفقة والمنع والفراش.


یعنی پہلے نکاح کے احکام باقی رہتے ہیں جیسے نفقہ، منع اور فراش، تو من وجہ ابھی نکاح باقی ہے۔ اس لیے عدت کا خرچہ مرد کے ذمہ ہے، عدت میں عورت کا مرد کے گھر سے نکلنا منع ہے، اور وہ عورت نسب کے ثبوت کے لیے اسی مرد کا فراش ہوگی۔ یعنی اگر اکثر مدتِ حمل سے پہلے پہلے بچہ پیدا ہوا اور مرد انکار نہ کرے تو اسی کی نسب ثابت ہوگی۔


جب یہ ثابت ہو گیا کہ عورتِ معتدۂ بائنہ کا نکاح ابھی من وجہ باقی ہے تو اب اس کی بہن سے نکاح کرنا مرد کو ناجائز ہوگا کیونکہ وہ جامع بین الاختین ہوگا جس کی ممانعت نص میں آ چکی ہے۔


علامہ ابن الہمام فتح القدیر ج ۲ ص ۲۴ میں فرماتے ہیں:


وبقولنا قال أحمد وهو قول علي وابن مسعود وابن عباس، ذكر سليمان بن يسار عنهم، وبه قال سعيد بن المسيب وعبيدة السلماني ومجاهد والثوري والنخعي.


امام احمد بن حنبل بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی قول ہے حضرت علی، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا۔ سلیمان بن یسار نے ان سے ذکر کیا اور اسی کے قائل ہیں سعید بن مسیب، عبیدہ السلمانی، مجاہد، ثوری اور نخعی۔


پھر آگے فرماتے ہیں:


قال عبيدة: ما اجتمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في شيء كاجتماعهم على تحريم نكاح الأخت في عدة الأخت.


عبیدہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا کسی شے پر ایسا اجماع نہیں ہوا جیسے کہ اس بات پر کہ بہن کی عدت میں اس کی بہن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔


وحید الزمان بھی نزل الابرار کے ص ۲۱ میں لکھتا ہے:


ويحرم الجمع بالنكاح الصحيح أو وطء يملك ولو في عدة من طلاق بائن بين الأختين.


دونوں بہنوں کے ساتھ نکاح میں جمع کرنا، اگرچہ مطلقہ بائنہ کی عدت میں ہو، یا ملکِ یمین کو وطی میں جمع کرنا حرام ہے۔


پس جو مسئلہ قرآن کریم کی دلالۃ النص سے ثابت ہو، جس مسئلہ پر اجماعِ صحابہ منقول ہو، جو اکابر تابعین و تبع تابعین کا مذہب ہو، اس پر مسخرہ کرنے کی جرأت غیر مقلد ہی کر سکتا ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ معترض اس مسئلہ کے خلاف ایک حدیث بھی پیش نہ کر سکا۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...