نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۲۹ : اگر چھونے سے انزال ہو جائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر خلافِ فطرت فعل کیا یعنی اس عورت سے پاخانہ کی جگہ وطی کی تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (یعنی صرف چھونے سے حرمت ثابت لیکن اگر اتنا مساس کیا کہ انزال ہو گیا تو حرمت زائل، صرف دیکھ لینے سے حرمت موجود لیکن شرمناک بدفعلی سے حرمت مفقود)

 


اعتراض نمبر ۲۹


ولو مس فأنزل والصحيح أنه لا يوجبها وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في بيان المحرمات)


یعنی اگر چھونے سے انزال ہو جائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر خلافِ فطرت فعل کیا یعنی اس عورت سے پاخانہ کی جگہ وطی کی تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (یعنی صرف چھونے سے حرمت ثابت لیکن اگر اتنا مساس کیا کہ انزال ہو گیا تو حرمت زائل، صرف دیکھ لینے سے حرمت موجود لیکن شرمناک بدفعلی سے حرمت مفقود) (درایت محمدی، ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸)


جواب:


ہدایہ شریف میں اس مسئلہ کو مدلل بیان کیا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ واطی اور موطوءہ کے درمیان وطی سببِ جزئیت ہے یعنی وہ دونوں مثل ایک شخص کے ہو جاتے ہیں۔ عورت کے والدین اور اولاد اس مرد کے والدین اور اولاد کی طرح ہو جاتے ہیں اور مرد کے والدین اور اولاد اس عورت کے والدین اور اولاد کی طرح ہو جاتے ہیں، چاہے وطی حلال ہو یا حرام۔ پس جس طرح حلال وطی سے عورت کی ماں بیٹی حرام ہو جاتی ہیں، اسی طرح جس عورت کے ساتھ زنا کرے اس کی ماں بیٹی بھی اس پر حرام ہو جاتی ہیں۔ سابقہ جواب میں اسی مسئلہ کے دلائل لکھے گئے ہیں۔


رہی یہ بات کہ صرف لمس اور نگاہِ شہوت سے حرمتِ مصاہرت ہو جاتی ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:


إن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط.


مس اور نظر وطی کی طرف بلانے والے ہیں اس لیے ان کو احتیاطاً وطی کے قائم مقام سمجھا۔


یعنی جو شخص لمس و نظر بالشہوت کرے گا وطی کی طرف راغب ہوگا اور وہ چاہے گا کہ وطی کروں، اس لیے داعیِ وطی قائم مقامِ وطی ہوئے اور حرمت ثابت ہو گئی۔ لیکن اگر مس کرتے ہی انزال ہو گیا تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔ اس کی وجہ بھی صاحب ہدایہ نے بیان فرمائی ہے جو معترض نے نقل نہیں کی۔ وہ فرماتے ہیں:


لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء. (هدايه ص ۲۸۹)


انزال ہو جانے سے ظاہر ہو گیا کہ یہ مس وطی کی طرف پہنچانے والا نہیں۔


کیونکہ انزال ہونے سے وہ وطی سے ہٹ جائے گا۔ اصل باعثِ حرمتِ مصاہرت وطی تھی۔ مس بغیر انزال چونکہ مفضی الی الوطی تھا اس لیے قائم مقامِ وطی سمجھا گیا، اور مس بالانزال چونکہ مفضی الی الوطی نہیں اس لیے وطی کے قائم مقام نہیں۔


یہی مسئلہ اتیان فی الدبر کا ہے۔ اگر انزال ہو جائے تو چونکہ وہ مفضی الی الوطی نہیں، موجبِ حرمت بھی نہیں۔ اگر انزال نہ ہو تو موجبِ حرمت ہے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...