اعتراض نمبر ۳۹: جو شخص ان عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرے جن سے نکاح حرام ہے (جیسے ماں، بہن، بیٹی وغیرہ) اس پر حد واجب نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔
اعتراض نمبر ۳۹:
من تزوج امرأة لا يحل له نكاحها فوطئها لا يجب عليه الحد عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٤ باب الوطء)
یعنی جو شخص ان عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرے جن سے نکاح حرام ہے (جیسے ماں، بہن، بیٹی وغیرہ) اس پر حد واجب نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۸، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
زانی کے لیے جو شرعاً حد مقرر ہے اور جو رجم یا جلد ہے، کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ جو شخص محرماتِ ابدیہ سے نکاح کر کے وطی کرے اس کو رجم کیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔ اسی لیے امام اعظم نے ایسے شخص کے لیے یہ حد (رجم یا جلد) نہیں فرمائی۔
امام اعظم کے اس مسئلہ کو معترض اگر حدیث کے خلاف سمجھتا ہے تو وہ حدیث نقل کرے جس میں ایسے شخص کے لیے حد آئی ہو۔
البتہ قتل کا حکم آیا ہے جس سے امام اعظم ہی کا مذہب ثابت ہوتا ہے کیونکہ قتل کرنا یا مال ضبط کرنا حدِ زنا نہیں ہے۔ امام اعظم ہی فرماتے ہیں ایسے شخص کو جو بھی سزا دی جائے کم ہے، لہٰذا حاکم اس کو سخت سے سخت سزا دے۔
فتح القدیر میں ہے:
ألا ترى أن أبا حنيفة ألزم عقوبة بأشد ما يكون وإنما لم يثبت عقوبة هي الحد فعرف أنه زنا محض عنده إلا أن فيه شبهة.
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امام ابو حنیفہ اس کے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کرتے ہیں، البتہ نکاح کے سبب حد ثابت نہیں۔ پس وہ اس کو زنا ہی سمجھتے ہیں مگر نکاح کے سبب اس میں شبہ پیدا ہو گیا۔
اس لیے حد مقرر، رجم یا جلد، اس سے ساقط ہوگئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر کوئی سزا ہی نہیں، جیسے کہ عوام کو مغالطہ میں ڈالا جاتا ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں