اعتراض نمبر ۵۰: جو نشہ لانے والی مباح چیزیں ہیں ان کے استعمال سے اگر نشہ آئے تو حد نہیں جیسے بھنگ کا پینا۔
اعتراض نمبر ۵۰:
لا السكر من المباح لا يوجب الحد كالبنج. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٦ باب حد الشرب)
یعنی جو نشہ لانے والی مباح چیزیں ہیں ان کے استعمال سے اگر نشہ آئے تو حد نہیں جیسے بھنگ کا پینا۔
(ہدایت محمدی ص ۱۰، درایت محمدی ص ۱۰۰)
جواب:
حنفیہ کا فتویٰ ہدایہ کے اس مسئلہ پر نہیں ہے۔
(۱) چنانچہ رد المحتار شرح در مختار المعروف بہ فتاویٰ شامی میں لکھا ہے کہ:
في متن البزدوي أنه يحد بالسكر من البنج في زماننا على المفتى به.
(فتاویٰ شامی جلد ۴، ص ۴۲)
متن بزدوی میں ہے کہ اگر بھنگ سے نشہ آئے تو ہمارے زمانے میں اس پر حد ہوگی اور یہ مفتیٰ بہی قول ہے۔
(۲) شارح ہدایہ علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
ورواية عبد العزيز عن أبي حنيفة وسفيان أنهما سئلا فيمن شرب البنج فارتفع إلى رأسه وطلق امرأته هل يقع؟ قال: إن كان يعلمه حين شربه ما هو يقع.
(فتح القدير شرح الهداية ج ۵ ص ۱۸۲)
عبد العزیز نے بیان کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور سفیان سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بھنگ کے نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے تو کیا اس کی طلاق واقع ہو جائے گی؟ ابو حنیفہ اور سفیان نے کہا اگر بھنگ پیتے وقت اس کو بھنگ کا علم تھا تو اس کی طلاق ہو جائے گی۔
(۳) کتاب الآثار امام محمد ص ۱۳۷ میں بھی حد لگانے کا ذکر موجود ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں