اعتراض نمبر ۳۸ : اگر کوئی شخص اپنی اولاد یا اولاد کی اولاد کی لونڈی سے بدکاری کرے اگرچہ وہ جانتا ہو کہ یہ اس پر حرام ہے، تاہم اسے حد نہ ماری جائے۔
اعتراض نمبر ۳۸
لا حد على من وطئ جارية ولده وولد ولده وإن قال علمت أنها علي حرام. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٢ باب الوطء الذي يوجب)
یعنی اگر کوئی شخص اپنی اولاد یا اولاد کی اولاد کی لونڈی سے بدکاری کرے اگرچہ وہ جانتا ہو کہ یہ اس پر حرام ہے، تاہم اسے حد نہ ماری جائے۔ (درایت محمدی، ص ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
یہ مثال شبۂ محل کی ہے، شبۂ محل سے بھی حدود ساقط ہو جاتی ہیں۔ شبۂ محل وہ ہے جس میں محل کی حلت کا شبہ بحکمِ شرع ثابت ہو۔ اس شکل میں اسقاطِ حد کا مدار دلیلِ شرعی پر ہے نہ کہ زانی کے اعتقاد پر، اس لیے کہ دلیل کے ثابت ہونے کے سبب نفس الامر میں شبہ قائم ہے، زانی اس کو جانے یا نہ جانے۔
ابن ماجہ نے جابر سے روایت کیا کہ ایک مرد نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال ہے اور میرا بیٹا ہے، میرا باپ مال مانگتا ہے حالانکہ وہ میرے مال کا محتاج نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أنت ومالك لأبيك
تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیٹے کا مال، والد کا ہے۔ لہٰذا بیٹے کی لونڈی سے وطی پر حلت کا شبہ ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حد ساقط ہوگی۔
ہدایہ شریف میں ہے:
لأن الشبهة حكمية لأنها نشأت عن دليل وهو قوله عليه السلام: أنت ومالك لأبيك.
یہ شبہ حکمیہ ہے اس لیے کہ دلیل سے پیدا ہوا ہے۔ وہ دلیل حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
اس حدیث کو طبرانی اور بیہقی نے بھی روایت کیا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں