نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۳۳ : ذمی مرد نے ذمی عورت سے نکاح کیا اور مہر میں شراب یا سور مقرر کیا، پھر دونوں میاں بیوی مسلمان ہو گئے تو بھی مہر میں شراب یا سور ادا کر دے۔ اسی طرح اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو بھی یہی حکم ہے۔

 


اعتراض نمبر ۳۳


فإن تزوج الذمي ذمية على خمر أو خنزير ثم أسلما أو أسلم أحدهما فلها الخمر والخنزير. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۳۱۸ أحكام النكاح في الكفار)


یعنی ذمی مرد نے ذمی عورت سے نکاح کیا اور مہر میں شراب یا سور مقرر کیا، پھر دونوں میاں بیوی مسلمان ہو گئے تو بھی مہر میں شراب یا سور ادا کر دے۔ اسی طرح اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو بھی یہی حکم ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸)


جواب:


ہدایہ شریف میں یہ مسئلہ شراب اور سورِ معین کے بارے میں لکھا ہے اور شراب یا سورِ غیر معین کے بارے میں شراب میں قیمت اور سور میں مہرِ مثل ہے۔ چنانچہ فرمایا:


إن كانا بغير أعيانهما فلها في الخمر القيمة وفي الخنزير مهر المثل.


امام اعظم کی دلیل جو ہدایہ میں ہے وہ یہ ہے کہ شراب یا سورِ معین کو اشارہ کر کے ذمی اور ذمیہ نے اپنا مہر مقرر کیا تو عقد کرتے ہی وہ عورت اس شراب یا سورِ معین کی مالک ہو گئی۔ وہ اس کو فروخت یا ہبہ وغیرہ تصرف کر سکتی ہے۔ رہا یہ کہ ابھی عورت نے وہ شراب یا سور پر قبضہ نہیں کیا، تو دونوں یا ان میں سے ایک مسلمان ہو گیا۔ اب وہ عورت اسلام کی حالت میں بھی قبضہ کر سکتی ہے کیونکہ قبضہ میں زوج کی ضمانت سے عورت کی ضمان میں انتقال ہے اور یہ اسلام کے ساتھ منع نہیں۔ چنانچہ فرمایا:


لأبي حنيفة أن الملك في الصداق المعين يتم بنفس العقد ولهذا تملك التصرف فيه، وبالقبض ينتقل من ضمان الزوج إلى ضمانها، وذلك لا يمتنع بالإسلام كاسترداد الخمر المغصوب.


رہی یہ بات کہ وہ عورت اس سور یا شراب کو کیا کرے؟


در مختار میں ہے:


فتخلل الخمر وتسيب الخنزير.


شراب کو سرکہ بنائے اور خنزیر کو چھوڑ دے۔


اور حاشیہ مدنی میں لکھا ہے:


بہتر یہ ہے کہ سور کو قتل کر دے۔


بتاؤ! یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...