اعتراض نمبر ۲۸: کسی مرد نے کسی غیر عورت کو شہوت کے ساتھ چھو لیا، اس کی شرمگاہ کو دیکھ لیا یا اس عورت نے اس کی شرمگاہ کو شہوت کی نظر سے دیکھ لیا تو اس عورت کی ماں اور بیٹی اس مرد پر حرام ہو گئی۔
اعتراض نمبر ۲۸:
مس امرأة بشهوة ونظر إلى فرجها ونظرت إلى ذكره عن شهوة. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في المحرمات)
یعنی کسی مرد نے کسی غیر عورت کو شہوت کے ساتھ چھو لیا، اس کی شرمگاہ کو دیکھ لیا یا اس عورت نے اس کی شرمگاہ کو شہوت کی نظر سے دیکھ لیا تو اس عورت کی ماں اور بیٹی اس مرد پر حرام ہو گئی۔
(درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸)
جواب:
اگر کسی کے پاس اس کے برخلاف کوئی آیت یا حدیث ہے تو دکھائے ورنہ اعتراض واپس لے۔
اب سنیے! کہ یہ مسئلہ نہ صرف امام اعظم کا ہے بلکہ صحیح مسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "واحتجبي منه يا سودة" اس کی تائید کرتا ہے۔
جوہر النقی ج ۲ ص ۸۴ میں بحوالہ ابن حزم لکھا ہے:
حضرت عبداللہ بن عباس نے ایک مرد اور عورت کو جدا کر دیا جب یہ معلوم ہوا کہ اس مرد نے عورت کی ماں کے ساتھ ناجائز حرکت کی، حالانکہ اس مرد کے اس عورت کے بطن سے سات بچے بھی پیدا ہو چکے تھے۔
معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا یہی مذہب تھا جو فقہاء علیہم الرحمہ نے لکھا ہے۔
اسی طرح سعید بن مسیب، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور عروہ بن زبیر نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کرے، اس کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرے۔
اسی طرح ابن ابی شیبہ نے سندِ صحیح کے ساتھ ابن مسیب اور حسن سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس کے لیے درست نہیں کہ اس عورت کی
ماں یا بیٹی کے ساتھ نکاح کرے۔
اسی طرح عبدالرزاق نے مصنف میں عثمان بن سعید سے، اس نے قتادہ سے، اس نے عمران بن حصین سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے اپنی عورت کی ماں سے زنا کیا، اس پر دونوں (ماں، بیٹی) حرام ہو گئیں۔
اسی طرح عطا نے فرمایا ہے، اسی طرح طاؤس و قتادہ نے فرمایا ہے۔ یہی امام نخعی کا مذہب ہے۔
امام مجاہد فرماتے ہیں:
إذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها من شهوة حرمت عليه أمها وبنتها. (جوهر النقي ص ٨٥)
جب کسی عورت کا بوسہ لے یا ہاتھ لگائے یا اس کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھے تو اس مرد پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو جاتی ہیں۔
وعن ابن عمر قال: إذا جامع الرجل المرأة وقبلها أو لمسها بشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة حرمت على أبيه وابنه وحرمت عليه أمها وابنتها. (فتح القدير نولكشور ج ٢ ص ٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، انہوں نے کہا جب کوئی مرد کسی عورت سے جماع کرے اور اس کا بوسہ لے یا اس کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے یا اس کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھے تو اس کے باپ اور بیٹے پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے اور اس عورت کی ماں اور بیٹی اس مرد پر حرام ہو جاتی ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں