نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۴۷ : ایک زانی کے زنا پر چار گواہ ہیں۔ دو تو کہتے ہیں کہ وہ عورت راضی نہ تھی، دو کہتے ہیں وہ بھی راضی تھی، تو نہ عورت کو حد لگائی جائے گی نہ مرد کو۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے اور ان کے شاگرد امام زفر بھی ان کے ساتھ ہیں

 


اعتراض نمبر ۴۷

إن شهد اثنان أنه زنى بفلانة فاستكرهها وآخران أنها طاوعته درئ الحد عنهما جميعا عند أبي حنيفة وهو قول زفر. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٠ باب الشهادة على الزنا)

یعنی ایک زانی کے زنا پر چار گواہ ہیں۔ دو تو کہتے ہیں کہ وہ عورت راضی نہ تھی، دو کہتے ہیں وہ بھی راضی تھی، تو نہ عورت کو حد لگائی جائے گی نہ مرد کو۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے اور ان کے شاگرد امام زفر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰)


جواب:


نہ صرف امام زفر ہی ان کے ساتھ ہیں بلکہ امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ دیکھو فتح القدیر نولکشور ج ۲ ص ۶۰۷۔


میں کہتا ہوں مولوی وحید الزمان مترجم صحاحِ ستہ بھی ان کے ہی ساتھ ہیں۔ چنانچہ وہ نزل الابرار جلد دوم کے صفحہ ۳۹۹ میں لکھتے ہیں:


ولو شهد اثنان منهم على أنه زنا بها وهي مكرهة فلا حد على واحد منهما.


ترمذی شریف میں ہے:


قال عليه السلام: ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم، فإن كان له مخرج فخلوا سبيله، فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة.


ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:


ادرؤوا الحدود بالشبهات.


تو اس مسئلہ میں اس لیے حد نہیں کہ ان چار گواہوں میں سے دو گواہ یقیناً کاذب ہیں، تو نصابِ شہادت پورا نہ ہوا۔


علاوہ ازیں فعلِ زنا دونوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اس صورت میں عورت کی جانب سے اختلاف ہے۔ دو کہتے ہیں کہ وہ مطاوِعہ ہے، دو کہتے ہیں مکرَہہ ہے، تو مرد کی جانب بھی لامحالہ اختلاف ہوا۔ اس لیے کہ مطاوِعہ کے ساتھ زنا کرنا اور ہے اور مکرَہہ کے ساتھ اور ہے۔ دو گواہ مطاوِعہ کی شہادت دیتے ہیں، دو مطاوِعہ کی نفی کرتے ہیں، تو نصابِ شہادت متحقق نہ ہوا، چار گواہ ثابت نہ ہوئے۔


عورت کا اگر مکرَہہ ہونا ثابت ہوتا تو مکرَہہ پر حد نہیں، اگر مطاوِعہ ہے تو حد ہے۔ یہ بھی شبہ پیدا ہو گیا اور شبہات سے حد اٹھ جاتی ہے۔ لہٰذا حد ساقط ہوگئی۔


اس مسئلہ کے خلاف اگر کوئی حدیث رکھتا ہے تو پیش کرے۔


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...