نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۴۵: کسی چور کی چوری، شرابی کی شراب خوری، زانی کی زنا کاری کی گواہوں نے وقوعہ کے کچھ دنوں بعد گواہی دی تو اس مجرم کو نہ پکڑا جائے نہ حد ماری جائے۔

 


اعتراض نمبر ۴۵:


إن شهد عليه الشهود بسرقة أو بشرب خمر أو بزنا بعد حين لم يؤخذ به. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٩ باب الشهادة على الزنا)


یعنی کسی چور کی چوری، شرابی کی شراب خوری، زانی کی زنا کاری کی گواہوں نے وقوعہ کے کچھ دنوں بعد گواہی دی تو اس مجرم کو نہ پکڑا جائے نہ حد ماری جائے۔ (کچھ دنوں بعد سے مراد ایک ماہ بعد ہے۔ ملاحظہ ہو اس سے اگلا صفحہ) (درایت محمدی ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰)


جواب:


چوری، شراب نوشی یا زنا کاری کا دیکھنے والا اگر شہادت نہ دے اور پردہ ڈال دے تو وہ ثواب کا مستحق ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے:


من ستر على مسلم ستره الله في الدنيا والآخرة.


جو شخص مسلمان کے (گناہ) پر پردہ ڈالے تو اللہ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا۔


اور اگر یہ سوچ کر گواہی دے کہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرہ میں نظم و ضبط اور سکون قائم رہے تو یہ بھی باعثِ ثواب ہے۔


اگر گواہوں نے بروقت گواہی نہ دی اور عرصہ گزر جانے کے بعد گواہی دی تو دیکھا جائے گا کہ اتنا عرصہ خاموشی کی وجہ کیا تھی؟


اگر کوئی عذر ہو مثلاً بیماری کے سبب یا کسی حسی اور معنوی عذر کے باعث شہادت نہ دے سکے تھے تو ان کی شہادت مقبول ہوگی اور مجرم پکڑا جائے گا۔ دیکھو فتح القدیر ص ۶۰۶۔


اگر گواہوں نے بلا عذر ادائے شہادت میں دیر کر دی تو کتمانِ شہادت کے باعث متہم بالفسق ہوں گے۔


اگر پہلے پردہ پوشی کا ارادہ کر کے دیر کر دی تو اب ان کا گواہی پر تیار ہو جانا ظاہر کرتا ہے کہ ملزم سے کوئی عداوت ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ گواہی دینے پر اتر آئے ہیں۔ پہلے ان کا ارادہ پردہ پوشی کا تھا، اب نقاب اٹھانے پر مائل ہیں، تو اس صورت میں گواہ متہم بالعداوت ہو گئے اور متہم کی شہادت معتبر نہیں۔


چنانچہ فتح القدیر ج ۲ ص ۶۰۴ میں لکھا ہے:


قوله عليه السلام: لا تقبل شهادة خصم ولا ظنين، أي متهم.


حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ دشمن اور متہم کی گواہی مقبول نہیں۔


ترمذی میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


خائن، خائنة، مجلود، متهم في الدين، اور دشمن کی گواہی جائز نہیں۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...