نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۲۷: هدايه قربانی کے جانور کی کوہان پر نشان کر دینا جو سنت ہے مکروہ ہے بلکہ یہ مثلہ کرنا ہے (یعنی اعضاءِ بدن کا کاٹ دینا) امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔

 


اعتراض نمبر ۲۷:


لا يشعر عند أبي حنيفة ويكره، ولأبي حنيفة أنه مثلة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ٢٤٣ باب التمتع)


یعنی قربانی کے جانور کی کوہان پر نشان کر دینا جو سنت ہے مکروہ ہے بلکہ یہ مثلہ کرنا ہے (یعنی اعضاءِ بدن کا کاٹ دینا) امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸)


جواب:


امام اعظم نے مطلقاً مکروہ نہیں فرمایا بلکہ اپنے زمانے کے لوگوں کا اشعار مکروہ فرمایا کہ وہ اشعار میں مبالغہ کرتے تھے۔ امام صاحب کے نزدیک اس میں مبالغہ مکروہ ہے نہ کہ اشعار۔ كما ذكره الطحطاوي رحمۃ اللہ علیہ۔


ہدایہ شریف میں اس امر کی تصریح موجود ہے مگر افسوس کہ معترض کو تعصب کے سبب نظر نہ آیا۔ چنانچہ صاحب ہدایہ لکھتا ہے:


قيل إن أبا حنيفة كره إشعار أهل زمانه لمبالغتهم فيه على وجه يخاف منه السراية.


شیخ عبد الحئی نے حاشیہ ہدایہ میں اسی کو اولیٰ و احسن فرمایا ہے۔


علامہ عینی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:


وأبو حنيفة رضي الله عنه ما كره أصل الإشعار، وكيف يكره ذلك مع ما اشتهر فيه من الآثار.


ابو حنیفہ نے اصل اشعار کو مکروہ نہیں فرمایا اور کیسے مکروہ کہہ سکتے تھے جب کہ آثارِ مشہورہ اس میں ثابت ہیں۔


قال الطحطاوي:


وإنما كره أبو حنيفة إشعار أهل زمانه لأنه رآهم يستقصون في ذلك على وجه يخاف منه هلاك البدنة لسرايته خصوصا في حر الحجاز.


امام طحطاوی فرماتے ہیں کہ ابو حنیفہ نے اپنے زمانہ کے اشعار کو مکروہ فرمایا اس لیے کہ ان کو اس طور پر اشعار کرتے دیکھا جس سے جانور کی ہلاکت کا خوف تھا، خصوصاً حجاز کی گرمی کے جسم میں سرایت کر جانے کے سبب۔


پس جو اشعار مسنون ہے وہ صرف کھال کا کاٹنا ہے۔ اس کو امام صاحب نے مکروہ نہیں کہا۔


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...