اعتراض نمبر ۲۶ : شرم گاہ کے سوا کسی اور جگہ جماع کیا اور انزال بھی ہوا، پھر بھی روزہ کا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔
اعتراض نمبر ۲۶
من جامع فيما دون الفرج فأنزل لا كفارة عليه. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۰۲ باب ما يوجب القضاء)
یعنی شرم گاہ کے سوا کسی اور جگہ جماع کیا اور انزال بھی ہوا، پھر بھی روزہ کا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۷)
جواب:
فرمائیے یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ آپ کو معلوم نہ ہو تو اپنے کسی بڑے محدث سے دریافت کر کے دیکھئے کہ فلاں حدیث میں تو ایسے شخص کے حق میں کفارہ آیا ہے۔ اگر ایسا نہ دکھا سکو، ہرگز نہ دکھا سکو گے، تو دوزخ کی آگ سے ڈرو۔
تمہارے ہاں تو بغیر جماع کفارہ ہی نہیں۔ دیکھو نزل الابرار ص ۲۳۱ میں علامہ وحید الزمان لکھتا ہے کہ ماہ رمضان میں روٹی کھانے اور پانی پینے میں بھی کفارہ نہیں۔ اب بتاؤ کہ کس منہ سے حنفیہ پر اعتراض کرتے ہو۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں