اعتراض نمبر ۴۹: شرابی نے شراب پی۔ جب اس کے منہ کی بدبو چلی گئی تو اگرچہ گواہ گواہی دیں، تاہم حد نہیں لگائی جائے گی۔
اعتراض نمبر ۴۹:
كذلك إذا شهدوا عليه بعد ما ذهب ريحها عند أبي حنيفة وأبي يوسف. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٥ باب حد الشرب)
یعنی شرابی نے شراب پی۔ جب اس کے منہ کی بدبو چلی گئی تو اگرچہ گواہ گواہی دیں، تاہم حد نہیں لگائی جائے گی۔ (درایت محمدی ص ۹۹، ۱۰۰، ہدایت محمدی ص ۱۰)
جواب:
اس میں بھی امام محمد کا قول ہدایہ شریف میں مرقوم ہے کہ حد لگائی جائے۔
حاصل یہ ہے کہ تقادم قبولِ شہادت کا مانع ہے كما مر۔ یعنی گواہوں کا پہلے خاموش رہنا پھر دیر کے بعد شہادت دینا اس بات کی تہمت پیدا کر دیتا ہے کہ شاید ان کو کسی عداوت نے ادائے شہادت پر برانگیختہ کیا، اور متہم کی شہادت معتبر نہیں۔
اور اس دیر کی ابتدا امام محمد کے نزدیک ایک مہینہ ہے، امام اعظم و امام ابو یوسف کے نزدیک بو کے زائل ہونے تک ہے۔ یعنی بو کے زائل ہونے تک بلا عذر گواہوں کا ادائے شہادت سے خاموش رہنا تہمت پیدا کر دیتا ہے، اس لیے ان کی گواہی قبول نہ ہوگی، نہ حد لگے گی۔
ہدایہ شریف میں اس مسئلہ کی دلیل میں قولِ ابن مسعودؓ نقل کیا گیا ہے۔
آپ نے فرمایا:
وجدتم رائحة الخمر فاجلدوه.
اگر تم شراب کی بو پاؤ تو حد لگاؤ۔ واللہ اعلم
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں