اعتراض نمبر ۳۵ : جو شخص اپنے باپ کی یا اپنی ماں کی یا اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اور یہ کہہ دے کہ میں نے خیال کیا تھا کہ یہ مجھ پر حلال ہے تو اسے حد نہیں لگائی جائے گی۔
اعتراض نمبر ۳۵
جارية أبيه وأمه وزوجته. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٢ باب الوطء الذي يوجب)
یعنی جو شخص اپنے باپ کی یا اپنی ماں کی یا اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اور یہ کہہ دے کہ میں نے خیال کیا تھا کہ یہ مجھ پر حلال ہے تو اسے حد نہیں لگائی جائے گی۔ (درایت محمدی، ص ۹۶، ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
ہدایہ شریف میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ یہ شبۂ اشتباہ ہے، اس لیے کہ بیٹا ماں باپ کے مال سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح خاوند اپنی بیوی کے مال سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا ماں باپ یا بیوی کی لونڈی کو حلال ظن کر لینا محتمل ہے۔ جب اس نے حلت کا ظن کیا تو یہ شبۂ اشتباہ ہے، اور شبہات کے سبب حدود کا ٹال دینا احادیث میں آیا ہے۔ چنانچہ "ادرؤوا الحدود ما استطعتم" پیچھے گزر چکی ہے جو کہ ابو یعلیٰ کی مسند میں مرفوعاً مروی ہے۔
مسند امام اعظم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
ادرؤوا الحدود بالشبهات
کہ شبہات کی بنا پر سزاؤں کو ٹالو۔
ابن ابی شیبہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں حدود کو شبہات کے سبب معطل رکھوں تو میرے نزدیک اس سے محبوب تر ہے کہ شبہات پر اقامتِ حد کروں۔
معاذ، عبداللہ بن مسعود اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم سے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جب تمہیں حد میں شبہ پڑ جائے تو حد کو ٹال دو۔
(غاية الأوطار ج ۲ ص ۴۱۰)
اتصالِ املاک بین الفروع والاصول سے یہ گمان ہوتا ہے کہ بیٹے کو ماں باپ کی لونڈی سے جماع میں ولایت ہے، اسی طرح زوجہ کی لونڈی میں۔
کیا یہ اشتباہ نہیں؟ اور کیا شبہات سے سزا کا ٹال دینا احادیث میں نہیں؟ اگر ہے تو فقہ حنفیہ پر اعتراض کیوں؟
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں