اعتراض نمبر ۴۴: خود مختار آزاد بادشاہ جو کچھ برا کام کرے (مثلاً چوری، زنا کاری، شراب خوری وغیرہ) اس پر کوئی حد نہیں۔ ہاں اگر کسی کو قتل کر ڈالے تو قصاص ہے۔
اعتراض نمبر ۴۴:
كل شيء صنعه الإمام الذي ليس فوقه إمام فلا حد عليه إلا القصاص. (هدايه يوسفي جلد ۳ ص ٤٩٨ باب الوطء الذي يوجب الحد)
یعنی خود مختار آزاد بادشاہ جو کچھ برا کام کرے (مثلاً چوری، زنا کاری، شراب خوری وغیرہ) اس پر کوئی حد نہیں۔ ہاں اگر کسی کو قتل کر ڈالے تو قصاص ہے۔
(درایت محمدی، ص ۹۸، ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰)
جواب:
چونکہ قصاص حقوق العباد میں سے ہے اور اس کا مدعی صاحبِ حق ہے، اس لیے صاحبِ حق کے طلب کرنے پر قصاص لیا جائے گا۔ لیکن حدود حقوق اللہ میں سے ہیں اور حدود کا اجراء و اقامت بادشاہ سے متعلق ہے۔ جب بادشاہ ایسا ہو کہ اس کے اوپر کوئی بادشاہ نہ ہو تو وہ اپنے آپ پر اقامتِ حدود نہیں کر سکتا۔ ہاں! اگر اس پر بھی بادشاہ ہو تو وہ اپنے ماتحت بادشاہ پر حدود قائم کر سکتا ہے۔ اور یہی دلیل صاحب ہدایہ نے لکھی ہے۔ واللہ اعلم
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں