اعتراض نمبر ۴۶ : اگر گواہوں نے گواہی زنا کی دی لیکن اس عورت کو وہ پہچانتے نہ تھے تو اسے حد نہ لگائی جائے اگرچہ مرد کو پہچانتے بھی ہوں۔
اعتراض نمبر ۴۶
إن شهدوا أنه زنى بامرأة لا يعرفونها لا يحد. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٠ باب الشهادة على الزنا)
یعنی اگر گواہوں نے گواہی زنا کی دی لیکن اس عورت کو وہ پہچانتے نہ تھے تو اسے حد نہ لگائی جائے اگرچہ مرد کو پہچانتے بھی ہوں۔
جواب:
(درایت محمدی، ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰)
ہدایہ میں اس کی نہایت معقول وجہ لکھی ہے۔ افسوس کہ معترض کو نظر نہ آیا۔ لکھا ہے:
لاحتمال أنها امرأته أو أمته بل هو الظاهر.
ممکن ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی یا لونڈی ہو، بلکہ ظاہر یہی ہے۔
کیونکہ مسلمان کا ظاہر حال یہی ہے کہ وہ زنا کار نہیں۔ گواہوں کے لیے لازم تھا کہ وہ عورت کی پہچان رکھتے، بعد میں گواہی دیتے۔ جب وہ عورت کو پہچانتے ہی نہیں تو ان کی گواہی غیر معتبر اور مجہول قرار دی جائے گی۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں