نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام زُفَرؒ کی علمی مجالس اور امام ابو حنیفہؒ کے منہجِ استدلال کا اظہار


امام زُفَرؒ کی علمی مجالس اور امام ابو حنیفہؒ کے منہجِ استدلال کا اظہار

 روایت : حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني أحمد بن محمد بن سلامة قال: حدثني أبو خازم القاضي قال: سمعت أحمد بن عبدة يقول: قدم يوسف ابن خالد السمتي البصرة من عند أبي حنيفة، فكان يأتي عثمان البتي وهو رئيسها وفقيهها، فيجاذب أصحابه المسائل ويذكر لهم خلاف أبي حنيفة إياهم، فيضربونه ويسبون أبا حنيفة، فلم يزالوا كذلك حتى قدم زفر بن الهذيل البصرة، فكان أعلم بالسياسة منه، فكان يأتي حلقة البتي فيستمع مسائلهم، فإذا وقف على الأصل الذي بنوا عليه تتبع فروعهم التي فرعوا على ذلك الأصل، فإذا وقف على تركهم الأصل طالب البتي حتى يلزمه قوله، ويبين له خروجه عن أصله فيعود أصحابه شهوداً عليه بذلك، فإذا وقف أصحاب البتي على ذلك استحسنوا ما كان منه قال لهم: ففي هذا الباب أحسن من هذا الأصل ويذكره لهم ويقيم الحجة عليهم فيه، ويأتيهم بالدلائل عليه ويطالب البتي بالرجوع إليه، ويشهد أصحابه عليه بذلك، قال لهم: هذا قول أبي حنيفة، فما مضت الأيام حتى تحولت الحلقة إلى زفر وبقي البتي وحده.

احمد بن عبدہ بیان کرتے ہیں کہ یوسف بن خالد السَّمْتی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی خدمت سے بصرہ آئے۔ وہ وہاں بصرہ کے رئیس اور فقیہ عثمان البَتّی کی مجلس میں حاضر ہوتے اور اس کے اصحاب کے ساتھ مسائل میں بحث و گفتگو کرتے۔ ان کے سامنے ان مسائل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف بیان کرتے کہ ان مسائل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے تمہاری رائے کے خلاف ہے۔ اس پر وہ لوگ یوسف بن خالد کو مارتے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو برا بھلا کہتے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔

پھر جب زُفَر بن ہذیل رحمہ اللہ بصرہ تشریف لائے تو وہ یوسف بن خالد کی نسبت سیاستِ بحث اور مناظرہ کے طریقۂ کار سے زیادہ واقف تھے۔ چنانچہ زُفَر رحمہ اللہ عثمان البتی کی مجلس میں جاتے، ان کے مسائل سنتے اور غور کرتے۔ جب وہ اس اصل سے واقف ہوجاتے جس پر اہلِ مجلس نے اپنے مسائل کی بنیاد رکھی تھی، تو اسی اصل سے نکالی ہوئی ان کی تمام فروع کا تتبع کرتے۔

پھر جب کسی مقام پر انہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے اپنے ہی قائم کردہ اصل کو چھوڑ دیا ہے تو زُفَر رحمہ اللہ عثمان البتی سے گفتگو کرتے رہتے، یہاں تک کہ انہیں ان کے اپنے قول کا التزام کرنے پر مجبور کردیتے اور ان پر واضح کردیتے کہ وہ اپنے ہی اصل سے تجاوز کر گئے ہیں۔ پھر عثمان البتی کے اصحاب کو اس بات پر گواہ بناتے کہ واقعی ان کے شیخ اپنے اصل سے نکل گئے ہیں۔

جب عثمان البتی کے اصحاب زُفَر رحمہ اللہ کے اس طرزِ استدلال کو دیکھتے تو ان کی بات کو پسند کرنے لگتے۔ اس وقت زُفَر رحمہ اللہ ان سے فرماتے: «ففي هذا الباب أحسن من هذا الأصل» یعنی: اس باب میں اس اصل سے بھی بہتر ایک اصول موجود ہے۔ پھر وہ اس اصول کو ان کے سامنے بیان کرتے، اس پر حجت قائم کرتے، اس کے دلائل پیش کرتے، اور عثمان البتی سے مطالبہ کرتے کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ اس پر بھی ان کے اصحاب کو گواہ بناتے۔ پھر ان سے فرماتے: «هذا قول أبي حنيفة» یعنی: یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔

چنانچہ چند ہی دن گزرے تھے کہ عثمان البتی کی مجلس زُفَر رحمہ اللہ کی طرف منتقل ہوگئی اور عثمان البتی اکیلے رہ گئے۔

( فضائل أبي حنيفة وأخباره لابن أبي العوام، إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ : ج 1، ص 297، جامع الكتب 

الإسلامية۔)


زُفَرؒ کی مجلس میں دراصل کس کا علمی جوہر نمایاں ہورہا تھا؟

 زُفَر بن ہذیل رحمہ اللہ خود علمِ حدیث کے ائمہ کے نزدیک ایک ثقہ راوی اور جلیل القدر محدث تھے، مگر یہی زُفَر رحمہ اللہ جب فقہی میدان میں اترتے ہیں تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اصول و فروع کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو محض تقلیداً پیش نہیں کرتے، بلکہ پہلے اس کے اصولی استدلال کو واضح کرتے، اس پر حجت قائم کرتے، مخالف کے اصول کی کمزوری دکھاتے اور آخر میں اعلان کرتے: «هذا قول أبي حنيفة» گویا یہ واقعہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی مقام کی  ایک نہایت قوی شہادت ہے۔ زُفَر رحمہ اللہ کی اپنی علمی شخصیت، ان کی مناظرانہ بصیرت اور ان کا محدثین کے نزدیک معتبر ہونا اپنی جگہ؛ لیکن جب ایسی شخصیت کسی امام کے اصول و فروع کو سمجھ کر، دلائل کے ساتھ، مخالفین کی مجلس میں پیش کرے اور اس کے نتیجے میں اہلِ مجلس اسی طرف مائل ہوجائیں، تو اس سے اس امام کے فقہی استدلال کی قوت اور علمی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس پوری مجلس میں زُفَر رحمہ اللہ کی علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی کمال کا جوہر بھی نمایاں ہورہا تھا۔ شاگرد نے جس قوتِ استدلال سے استاد کے منہج کی ترجمانی کی، وہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ استاد نے اپنے تلامذہ کو محض اقوال نہیں دیے تھے، بلکہ اصولِ فقہ، طرزِ استنباط اور استدلال کی وہ بصیرت عطا کی تھی جس سے وہ بڑے بڑے اہلِ علم کی مجلس میں اپنے موقف کی علمی بنیاد قائم کرسکیں۔

فقہِ حنفی کے پھیلاؤ کا تاریخی شاہد: تلوار نہیں، علم و استدلال

بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فقہِ حنفی تلوار کے زور پر پھیلی، یا قاضی القضاۃ اور سرکاری قاضیوں کے ذریعے اسے لوگوں پر مسلط کیا گیا۔ لیکن یہ روایت اس دعوے کے مقابلے میں ایک واضح تاریخی منظر پیش کرتی ہے۔

عثمان البَتّی کی وفات 143ھ میں ہوئی، جبکہ اس سے پہلے ہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی زندگی میں ان کے شاگرد زُفَر بن ہذیل رحمہ اللہ بصرہ پہنچتے ہیں اور عثمان البتی کی علمی مجلس میں فقہی مناقشہ کرتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی حکومتی قوت تھی، نہ قاضی القضاۃ کا منصب، نہ کسی سرکاری قاضی کے ذریعے جبر؛ بلکہ زُفَر رحمہ اللہ نے علم، اصول اور دلیل کے ذریعے اہلِ مجلس کو قائل کیا۔

پس یہ واقعہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی حیات ہی میں فقہی اثر و نفوذ کی ایک مثال ہے۔ اس لیے فقہِ حنفی کے پھیلاؤ کو صرف بعد کے سرکاری عہد، قاضی القضاۃ کے منصب یا حکومتی جبر کا نتیجہ قرار دینا تاریخی شواہد سے ہم آہنگ نہیں۔ یہاں تو امام صاحب رحمہ اللہ کی زندگی ہی میں ان کے تلامذہ علمی مجالس میں دلیل و استدلال کے ذریعے ان کے فقہی منہج کی ترجمانی کررہے تھے۔

گویا یہ روایت اس حقیقت کی نہایت روشن شہادت ہے کہ فقہِ حنفی کا نفوذ تلوار کی دھار سے نہیں، بلکہ علم و استدلال کی قوت سے ہوا؛ لوگوں کے دل اور مجالس شمشیر کے زور سے نہیں، بلکہ حجت و برہان سے فتح ہوئے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...