امام ابو یوسفؒ کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور اصحابِ حدیث و اصحابِ رائے کے درمیان ان کا مقام
امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ فقہِ حنفی کے وہ جلیل القدر امام ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علمی منہج کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنی غیر معمولی فقہی بصیرت، وسعتِ نظر اور علمی استقلال کے ذریعے اسے عملی میدان میں بھی نمایاں فرمایا۔ زیرِ نظر روایت میں ان کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ اصحابِ رائے اور اصحابِ حدیث دونوں کو اپنے علمی دائرے کا حصہ سمجھتے تھے، کسی ایک طبقے کو محض تعصب کی بنیاد پر دوسرے پر ترجیح نہ دیتے تھے، بلکہ علمی معیار اور درست جواب کو اصل معیار قرار دیتے تھے۔
یہ واقعہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی فقہی مہارت کے ساتھ ان کے اخلاق، وسعتِ ظرف، علمی انصاف اور اپنے اساتذہ و اکابر کے احترام کی بھی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔
روایت : حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني أحمد بن محمد بن سلامة قال: سمعت بكار بن قتيبة القاضي يقول: سمعت أبا الوليد الطيالسي يقول: لما قدم أبو يوسف البصرة حاجا مع هارون الرشيد اجتمع أصحاب الرأي وأصحاب الحديث على بابه فطلب كل فريق منهم الدخول إليه أولا، فأشرف عليهم فلم يأذن لفريق منهم، ولم يعنف فريقا على طلبه الدخول إليه قبل الفريق الآخر، وقال لهم جميعا: أنا من الفريقين جميعا، ولا أقدم فرقة على الفرقة الأخرى، ولكني أسال الفريقين عن مسألة، فأيهم أصاب الجواب دخل هو وأصحابه أولا، ثم أخرج خاتما كان في يده فقال: رجل مضغ خاتمي هذا حتى هشمه، ما الواجب لي عليه؟ قال : فاختلف عليه أصحاب الحديث ولم يعجبه قولهم، وقال له رجل من أهل الرأي: عليه قيمته مصوغا من الذهب يغرمها لصاحب الخاتم ويأخذ الفضة المهشومة لنفسه إلا أن يشاء رب الخاتم أن يحتبسه لنفسه ولا شيء له على هاشمه، فقال أبو يوسف: يدخل أصحاب هذا القول، فدخل أصحاب الرأي ودخلت معهم، فسأله المستملي فأملى في أول مجلس حديثا عن الحسن بن صالح ثم كأنه خطر بقلبه شيء أو كلمه رجل بشيء لم أفهمه، فقال: ما أخاف على رجل من شيء خوفي عليه من كلامه في الحسن بن صالح، فوقع في قلبي أنه أراد شعبة، فقمت على قدمي ثم قلت: لله علي ألا أجلس في مجلس يعرض فيه بابي بسطام، ثم خرجت فرجعت إلى نفسي فقلت: هذا قاضي الآفاق ووزير أمير المؤمنين وزميله في حجه وما يضره غضبي أو ينفعه رضائي، فرجعت فجلست حتى فرغ المجلس، فأقبل علي إقبال رجل ما كان له هم غيري، فقال لي: يا هشام، وإذا هو يثبتني لأني كنت عنده ببغداد، والله ما أردت بأبي بسطام سوءا، ولهو في قلبي أكثر منه في قلبك فيما أرى، ولكني لا أعلم أني رأيت رجلا مثل الحسن بن صالح.
قال بكار بن قتيبة: فذكرت هذا لهلال بن يحيى فقال لي: أنا والله الذي أجبت أبا يوسف في مسألة الخاتم التي سئل عنها، ولقد كان قتيبة -يعني أبي- حاضر المجلس معنا، وشاهدي: أن أبا يوسف يومئذ أملى علينا بابا من المكاتب فلما فرغ منه قمت إليه من بين الناس فقلت له: ليس هذا قولكم في الصيف، أفنغير ذلك القول ونثبت هذا، أو نغير هذا ونثبت ذلك القول، فقال أبو يوسف: دعوهما فسيأتي من يميز بينهما.
میرے والد نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: میرے والد نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: احمد بن محمد بن سلامہ نے مجھے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قاضی بکار بن قتیبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو الولید طیالسی کو یہ کہتے ہوئے سنا:
جب ابو یوسف رحمہ اللہ ہارون الرشید کے ساتھ حج کے لیے بصرہ تشریف لائے تو اصحابِ رائے اور اصحابِ حدیث دونوں ان کے دروازے پر جمع ہوگئے۔ ہر گروہ یہ چاہتا تھا کہ پہلے اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
ابو یوسف رحمہ اللہ نے ان کی طرف دیکھا، مگر کسی ایک گروہ کو دوسرے پر مقدم کرکے داخل ہونے کی اجازت نہ دی، اور نہ کسی گروہ کو اس بات پر ملامت کی کہ وہ دوسرے گروہ سے پہلے داخل ہونا چاہتا ہے۔
بلکہ سب سے فرمایا: ’’میں دونوں گروہوں میں شامل ہوں، اور میں کسی ایک گروہ کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا۔ البتہ میں دونوں گروہوں سے ایک مسئلہ دریافت کرتا ہوں؛ ان میں سے جس نے درست جواب دیا، وہ اور اس کے ساتھی پہلے داخل ہوں گے۔‘‘
پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود ایک انگوٹھی نکالی اور فرمایا: ’’ایک شخص نے میری اس انگوٹھی کو چبا ڈالا، یہاں تک کہ اسے توڑ پھوڑ کر خراب کردیا۔ اب اس شخص پر میرے حق میں کیا واجب ہوگا؟‘‘
راوی کہتے ہیں کہ اصحابِ حدیث نے اس مسئلے میں اختلاف کیا اور ان کے جوابات ابو یوسف رحمہ اللہ کو پسند نہ آئے۔
پھر اہلِ رائے میں سے ایک شخص نے جواب دیا: ’’اس پر لازم ہے کہ سونے میں جڑی ہوئی اس انگوٹھی کی قیمت ادا کرے۔ وہ قیمت انگوٹھی کے مالک کو دے گا اور ٹوٹی ہوئی چاندی خود لے لے گا، البتہ اگر انگوٹھی کا مالک چاہے تو اس ٹوٹی ہوئی چاندی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے، اور پھر اسے توڑنے والے شخص پر مزید کچھ واجب نہ ہوگا۔‘‘
ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اسی قول والوں کو پہلے داخل ہونے دیا جائے۔‘‘ چنانچہ اصحابِ رائے داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوگیا۔
پھر مستملی نے ابو یوسف رحمہ اللہ سے مسائل لکھوانے شروع کیے۔ مجلس کے آغاز میں انہوں نے حسن بن صالح کے متعلق ایک حدیثی باب املا کرایا۔ پھر ایسا محسوس ہوا کہ ان کے دل میں کوئی بات آئی، یا کسی شخص نے ان سے کوئی بات کہی جو میں سمجھ نہ سکا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’مجھے کسی شخص کے بارے میں اتنا خوف نہیں جتنا مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ حسن بن صالح کے بارے میں گفتگو کرے۔‘‘
مجھے خیال ہوا کہ شاید ان کی مراد شعبہ ہیں۔ چنانچہ میں کھڑا ہوگیا اور کہا: ’’اللہ کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں ایسی مجلس میں نہ بیٹھوں جس میں میرے استاد ابو بسطام کے بارے میں گفتگو کی جائے۔‘‘
پھر میں مجلس سے نکل آیا۔ باہر آکر میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’یہ تمام علاقوں کے قاضی ہیں، امیر المؤمنین کے وزیر ہیں اور حج میں ان کے ساتھی ہیں؛ میرے غصے سے انہیں کیا نقصان ہوگا اور میری رضامندی سے انہیں کیا فائدہ ہوگا؟‘‘ چنانچہ میں واپس آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ مجلس ختم ہوگئی۔ مجلس ختم ہونے کے بعد ابو یوسف رحمہ اللہ میری طرف اس طرح متوجہ ہوئے جیسے اس وقت ان کے لیے مجھ سے بڑھ کر کوئی اور اہم نہ ہو۔ فرمایا: ’’اے ہشام!‘‘ وہ مجھے اس لیے پہچانتے تھے کہ میں بغداد میں ان کے پاس رہا تھا۔
پھر فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں نے ابو بسطام کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ میرے دل میں ان کی محبت تمہارے دل سے بھی زیادہ ہے، جیسا کہ میں سمجھتا ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ میں نے حسن بن صالح جیسا کوئی شخص دیکھا ہو۔‘‘
بکار بن قتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ ہلال بن یحییٰ سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! انگوٹھی کے جس مسئلے کے بارے میں ابو یوسف نے سوال کیا تھا، اس کا جواب دینے والا میں ہی تھا۔ اور قتیبہ، یعنی میرے والد، بھی اس مجلس میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔‘‘
پھر انہوں نے اپنی بات کی تائید میں کہا: ’’اس کی شہادت یہ ہے کہ ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس دن ہمیں مکاتب کے مسائل سے متعلق ایک باب املا کرایا۔ جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو میں لوگوں کے درمیان سے اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا: آپ لوگ گرمی کے زمانے میں اس مسئلے کے بارے میں ایک اور قول بیان کرتے تھے؛ اب کیا ہم اس پہلے قول کو بدل کر اس نئے قول کو اختیار کریں، یا اس نئے قول کو بدل کر پہلے قول کو برقرار رکھیں؟‘‘
ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’دونوں قولوں کو رہنے دو، عنقریب کوئی ایسا شخص آئے گا جو ان دونوں میں تمیز کردے گا۔‘‘ (فضائل أبي حنيفة وأخباره لابن أبي العوام، إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ : رقم: 701، ج 1، ص 305، جامع الكتب الإسلامية۔)
اس روایت میں سب سے پہلے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی علمی وسعت اور غیر جانب دارانہ مزاج نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے سامنے اصحابِ حدیث بھی موجود ہیں اور اصحابِ رائے بھی، مگر وہ کسی ایک جماعت کو محض اس نسبت کی بنا پر دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے۔ پھر فیصلہ کسی مسلکی نسبت، جماعتی وابستگی یا شخصی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ درست جواب کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے علمی مقام اور ان کے وسیع النظر فقہی مزاج کی نہایت عمدہ مثال ہے۔
امام ابو یوسفؒ: اپنے اکابر کے احترام میں بھی بلند مقام
روایت کا دوسرا حصہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے اخلاقی مقام کو واضح کرتا ہے۔ جب ہشام کو یہ شبہ ہوا کہ شاید ابو یوسف رحمہ اللہ نے ان کے استاد شعبہ رحمہ اللہ، ابو بسطام کے بارے میں کوئی نامناسب بات کی ہے تو وہ مجلس سے اٹھ کر چلے گئے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فوراً ان کی دل آزاری دور کی اور قسم کھا کر فرمایا میں نے ابو بسطام کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا کہ ان کی محبت میرے دل میں تمہارے دل سے بھی زیادہ ہے۔
حاصلِ کلام
یہ روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک نہایت جامع نقشہ سامنے لاتی ہے: فقہ میں رسوخ، حدیث سے واقفیت، اہلِ علم کے ساتھ وسعتِ نظر، مناظرانہ بصیرت، اکابر کا احترام اور مسائل کے دقیق فرق کو سمجھنے کی صلاحیت۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں