نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو حنیفہؒ کی فقاہت کا لیث بن سعدؒ اور ابن شبرمہؒ کی زبان سے اعتراف


امام ابو حنیفہؒ کی فقاہت کا لیث بن سعدؒ اور ابن شبرمہؒ کی زبان سے اعتراف

امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت، دقتِ نظر اور مقامِ امامت کا اعتراف صرف آپؒ کے تلامذہ، اصحاب اور متعلقین ہی کی جانب سے منقول نہیں، بلکہ ایسے اجلۂ اہلِ علم کے کلمات بھی منقول ہیں جن کے دل میں ابتدا میں امام صاحبؒ کے بارے میں سخت رائے پائی جاتی تھی؛ مگر جب انہیں آپؒ کی فقاہت اور قوتِ استنباط کا مشاہدہ ہوا تو وہ اپنے سابق تأثر سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔

چنانچہ مشہور محدث لیث بن سعدؒ کا واقعہ نہایت قابلِ غور ہے۔ : نا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب يوسف بن أحمد قال نا أبو علي أحمد بن عثمان الحافظ الأصبهاني قال نا محمد بن العباس قال نا يحيى بن عبد الله بن بكير قال سمعت الليث بن سعد يقول كنت أسمع بذكر أبي حنيفة وأتمنى أن أراه فكنت يوما في المسجد الحرام فرأيت حلقة عليها الناس منقصفين فأقبلت نحوها فرأيت رجلا من أهل خراسان أتى أبا حنيفة فقال أني رجل من أهل خراسان كثير المال وإن لي ابنا ليس بالمحمود وليس لي ولد غيره فذكر نحوه سواء وزاد قال الليث فوالله ما أعجبني قوله بأكثر مما أعجبني سرعة جوابه (الانتقاء لابن عبد البر، ص: ۱۵۴)

لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں: ’’میں ابو حنیفہؒ کا ذکر سنا کرتا تھا اور میری خواہش تھی کہ میں ان کی زیارت کروں۔ ایک روز میں مسجدِ حرام میں حاضر تھا کہ ایک حلقہ دیکھا جس کے گرد لوگ کثرت سے جمع تھے۔ میں اس حلقہ کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ اہلِ خراسان میں سے ایک شخص امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا مسئلہ پیش کیا۔ امام صاحبؒ نے اس کے سوال کا جواب ارشاد فرمایا۔

لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں: فوالله ما أعجبني قوله بأكثر مما أعجبني سرعة جوابه

’’اللہ کی قسم! مجھے ان کا جواب جس قدر پسند آیا، اس سے زیادہ ان کے جواب دینے کی سرعت نے مجھے متاثر کیا۔‘‘

یہاں ایک جلیل القدر امامِ حدیث کی زبان سے امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت کے ساتھ ساتھ قوتِ استنباط، حاضر جوابی اور سرعتِ جواب کا بھی اعتراف منقول ہے۔ 

ابن شبرمہؒ کا اعتراف

اسی سلسلہ میں ابن شبرمہؒ کا واقعہ اس سے بھی زیادہ صریح اور قابلِ التفات ہے۔ ابن عبد البر فرماتے ہیں: نا عبد الوارث بن سفيان قال نا قاسم بن أصبغ قال نا أحمد ابن زهير قال نا سليمان بن أبي شيخ قال نا أبو سفيان الحميري قال قال ابن شبرمة كنت شديد الإزراء على أبي حنيفة فحضر الموسم وكنت حاجا يومئذ فاجتمع عليه قوم يسألونه فوقفت من حيث لا يعلم من أنا فجاءه رجل فقال يا أبا حنيفة قصدتك أسألك عن أمر قد أهمني وأعجزني قال ما هو قال لي ولد ليس لي غيره فإن زوجته طلق وإن سريته أعتق وقد عجزت عن هذا فهل من حيلة فقال له للوقت اشتر الجارية التي يرضاها هو لنفسك ثم زوجها منه فإن طلق رجعت مملوكتك إليك وإن أعتق أعتق ما لا يملك قال فعلمت أن الرجل فقيه فمن يومئذ كففت عن ذكره إلا بخير (الانتقاء لابن عبد البر)

ابن شبرمہؒ فرماتے ہیں:

’’میں ابو حنیفہؒ کے بارے میں سخت طعن و تشنیع کیا کرتا تھا۔ پھر حج کا موسم آیا اور میں اس وقت حج پر تھا۔ لوگ امام ابو حنیفہؒ کے گرد جمع ہوکر ان سے مسائل دریافت کر رہے تھے۔ میں ایسی جگہ کھڑا ہوگیا جہاں سے وہ یہ نہ جان سکیں کہ میں کون ہوں۔

اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے ابو حنیفہ! میں آپ کے پاس ایک ایسے معاملے کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں جس نے مجھے سخت پریشان کر رکھا ہے اور میں اس کے حل سے عاجز آگیا ہوں۔

امام صاحبؒ نے فرمایا: وہ کیا معاملہ ہے؟

اس نے عرض کیا: میرا ایک ہی بیٹا ہے، اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں۔ جب میں اس کی شادی کرتا ہوں تو وہ طلاق دے دیتا ہے، اور جب اسے کوئی لونڈی دیتا ہوں تو وہ اسے آزاد کردیتا ہے۔ اب میں اس معاملہ میں عاجز آگیا ہوں، کیا اس کی کوئی تدبیر ہوسکتی ہے؟

امام ابو حنیفہؒ نے فی الفور فرمایا: ’’تم وہی لونڈی اپنے لیے خرید لو جسے وہ پسند کرتا ہے، پھر اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کردو۔ اگر وہ اسے طلاق دے گا تو وہ لونڈی تمہاری ملکیت میں واپس آجائے گی، اور اگر اسے آزاد کرے گا تو ایسی چیز کو آزاد کرے گا جو اس کی ملکیت میں نہیں۔‘‘

ابن شبرمہؒ فرماتے ہیں: فعلمت أن الرجل فقيه فمن يومئذ كففت عن ذكره إلا بخير

’’پس مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ شخص فقیہ ہے؛ چنانچہ اسی دن سے میں نے اس کا ذکر خیر کے سوا کسی اور طریقے سے کرنا چھوڑ دیا۔‘‘

حاصلِ کلام

ان دونوں واقعات کو، جو حسن سند کے ساتھ منقول ہیں،  یکجا کرکے دیکھا جائے تو امام ابو حنیفہؒ کی فقاہت کے بارے میں کئی اہم حقائق سامنے آتے ہیں۔

اولاً، یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی فقہی شہرت  محض کوفہ یا آپؒ کے اپنے حلقۂ تلامذہ تک محدود نہ تھی، بلکہ حجاز اور مصر کے اہلِ علم تک بھی پہنچ چکی تھی۔اسی حقیقت کی تائید سفیان بن عیینہؒ کے اس مشہور قول سے بھی ہوتی ہے: سفیان بن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ دو چیزوں کے بارے میں میرا گمان تھا کہ وہ کوفہ کے پل سے تجاوز نہیں کریں گی، لیکن وہ پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں: ایک حمزہؒ کی قراءت اور دوسری ابو حنیفہؒ کے اجتہادات۔


ثانیاً، ابن شبرمہؒ کا واقعہ اس بات کو مزید واضح کرتا ہے کہ بعض اہلِ علم نے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں ابتدائی طور پر جو رائے قائم کی، وہ براہِ راست ملاقات اور گفتگو کے بجائے سنی سنائی باتوں اور دوسروں سے پہنچنے والی معلومات پر مبنی تھی۔ لیکن جب انہیں امام ابو حنیفہؒ سے براہِ راست ملاقات اور علمی گفتگو کا موقع ملا تو ان کے ابتدائی تاثرات بدل گئے اور وہ امام صاحب کی علمی قدر و منزلت کے معترف ہوگئے۔ 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...