نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

امام ابوبکر جصاصؒ اور مذہبِ اعتزال

امام ابوبکر جصاصؒ اور مذہبِ اعتزال؛ ایک تحقیقی جائزہ  (  مولانا عصمت اللہ نظامانی حفظہ اللہ . تخصص فی علوم الحدیث جامعۃ الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن۔ کراچی ) [ یہ تحقیقی مضمون ،مجلہ  " راہ ہدایت " شمارہ نمبر 7 سے پیش کیا گیا ہے۔ مجلہ راہ ہدایت گروپ میں شمولیت کیلئے رابطہ کریں       Whatsapp :            03428970409   ]  اصل موضوع شروع کرنے سے قبل چند باتیں بطورِ تمہید ملحوظ رہیں: (1)۔۔۔کسی نظریاتی فرقے یا فقہی مذہب وغیرہ سے چند مسائل اورفروع میں موافقت کرنے سے کسی شخص کو اس فرقے یا مذہب کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، عقیدے یا فقہی نسبت کے لیے اس کا اقرار یا اکثر مسائل میں اتفاق ضروری ہے۔چنانچہ امام طحاوی وابن ہمام وغیرہ متعدد فقہی مسائل میں مذہبِ احناف سے ہٹ کر علیحدہ موقف رکھتے ہیں، یا دوسرے ائمہ کرام مثلاً مالک وشافعی وغیرہ کی رائے کو راجح قرار دیتےہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بدستور حنفی ہی شمار کیا جاتا ہے، اس اختلاف کی بنا پر وہ احناف سے نہیں نکلیں گے، اور نہ مالکی وشافعی وغیرہ ہوں گے ۔ (2)۔۔۔ معتزلہ فر...

سلطان محمود غزنوی کی حنفیت سے توبہ کی داستان

سلطان محمود غزنوی کی حنفیت سے توبہ کی  داستان ۔ سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ حنفی تھے لیکن علم حدیث اور محدثین سے رغبت رکھتے تھے، انہوں نے دیکھا حنفی مذہب کے اکثر مسائل قرآن و سنت کے خلاف ہیں جبکہ شافعی مذہب کے زیادہ تر قرآن و سنت کے مطابق ہے، سلطان محمود غزنوی نے فیصلہ کرنے کے لیے اپنے دربار میں ایک مناظرے کا اہتمام کیا جس میں محدثین، شافعی اور حنفی مسلک کے بڑے بڑے علماء کو بلایا گیا، اور رائے زنی کی گئی مناظرے کا طریقہ کار کیا ہو گا، بالآخر یہ طے پایا کہ دو رکعت نماز شافعی مذہب کے طریقے سے اور دو رکعت نماز حنفی مذہب کے طریقے سے دربار میں سب کے سامنے پڑھی جائے گی تاکہ دیکھا جائے کونسا مذہب قرآن و سنت کے زیادہ قریب ہے، "بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا" حضرت قفال مروزی رحمہ اللہ جو ایک زبردست عالم اور دونوں مذہب شافعی اور حنفی سے خوب واقف تھے کو حکم دیا گیا کہ دونوں مذہبوں کے مطابق دربار میں دو دو رکعت نماز پڑھ کر دکھائیں، حضرت قفال مروزی نے پہلے شافعی مذہب کے مطابق دو رکعت نماز پڑھی جس میں اچھا پاک لباس پہن کر کامل وضو کیا، قبلہ کی طرف رخ کر کے باادب خشوع و خضوع رفع الیدین ...

نماز قفال مروزی اور سلطان محمود غزنوی کی حنفیت سے توبہ کی داستان

نماز قفال مروزی اور سلطان محمود غزنوی کی حنفیت سے توبہ کی داستا ن  کا تحقیقی جائزہ محدث کبیر مولانا حبیب الرحمان اعظمی صاحب ، غیر مقلد جدید اہل حدیث  مولوی محمد ایڈیٹر اخبار محمدی دہلوی کا مضمون جس کا عنوان  " حنفی مذہب کی نماز " تھا ، قفال مروزی کا سلطان محمود غزنوی کے دربار میں نماز والے واقعے کے جواب میں لکھتے ہیں کہ : ا۔ اس واقعہ کو امام الحرمین بیان کرتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ حنفی و شافعی فقہ کی جنگ کے زمانہ میں جب کہ علم جدل و خلاف کا عروج تھا، شافعیہ کے سپہ سالار امام الحرمین اور ان کے شاگرد ہی تھے، اس لیے ہمارے خلاف ان کی شہادت کب قابل سماعت ہو سکتی ہے۔ ٢ ۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلطان محمود فقہ حنفی سے بلکہ اور علوم سے بھی بالکل کورا تھا اور فقہ حنفی كو خود دیکھ بھی نہ سکتا تھا، حالانکہ یہ بالکل خلاف واقعہ اور غلط ہے۔ سلطان محمود بڑا جید عالم، زبر دست فقیہ حنفی ، فصاحت و بلاغت میں یگانۂ روزگار تھا، شعر بھی خوب کہتا تھا، فقہ حنفی میں اس کی نہایت نفیس تقریبا ساٹھ ہزار مسائل کی جامع کتاب جس کا نام کتاب التفرید  ہے۔ امام مسعود بن شیبہ کے زمانہ تک بل...