نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

المجروحین لابن حبان میں اعتراض نمبر 21 : محدث ابن حبان نقل کرتے ہیں کہ ابن المبارک نے فرمایا جس شخص کے پاس کتاب الحیل ہو، اور وہ اس میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کرنا چاہے، تو وہ کافر ہے


 امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر  متشدد محدث ابن حبان رحمہ اللہ کی جروحات کا جائزہ : 

المجروحین لابن حبان میں اعتراض نمبر 21 :


وأخبرنا محمد بن عبد الرحمن الفقيه قال: سمعت محمد بن أحمد بن حكيم الشيباني يقول: سمعت أبا إسحاق الطالقاني يقول: سمعت ابن المبارك يقول: من كان عنده كتاب الحيل يريد أن يعمل بما فيه فهو كافر وبانت منه امرأته وبطل حجه. ثم قال: قال فلان: لو أن رجلا ظاهر من امرأته فارتد عن الاسلام سقط عنه كفارة الطهار، ولو أن رجلا ابتلى بهذا وقال له رجل: أفعل هذا لكي تسقط عنه الكفارة فهو كافر وباتت منه امرأته وبطل حجه.


محدث ابن حبان نقل کرتے ہیں کہ ابن المبارک نے فرمایا جس شخص کے پاس کتاب الحیل  ہو، اور وہ اس میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کرنا چاہے، تو وہ کافر ہے ۔۔۔۔ الخ

(المجروحين لابن حبان ت زاید 3/71  )

جواب  : 

اس روایت کی سند کا حال یہ ہیکہ

محمد بن أحمد بن حكيم الشيباني مجہول ہیں ، سوائے ابن حبان کے کسی نے ان کی توثیق نہیں کی اور ابن حبان مجاہیل کی توثیق میں متساہل ہیں 

أبا إسحاق الطالقاني پر محدثین نے یہ جرح کی ہیکہ یہ امام ابن المبارک سے غرائب نقل کرتے ہیں ۔

وقال إبراهيم بن عبد الرَّحمن الدارمي: روى عن ابن المبارك أحاديث غرائب.

 اور اس روایت میں بھی وہ ابن المبارک سے روایت کر رہے ہیں ، لہذا سند مشکوک ہو جاتی ہے

وقال ابن حبان في «الثقات»: يُخطئ، ويخالف،  ۔  امام حبان نے ان کو الثقات میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ غلطیاں کرتے تھے ۔ 



3۔ کتاب الحیل امام ابو حنیفہ کی تصنیف ہے ، یہ کسی بھی طرح ثابت نہیں ہے ، بلکہ یہ کتاب ، بعض حاسدین کی گھڑی ہوئی ہےبہت ممکن ہے کہ کسی باطل فرقے والے نے یہ کتاب لکھ کر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کی طرف اس کی نسبت کر دی ہو، کیونکہ جب لوگوں کے جھوٹ سے حضور ﷺ کی ذات محفوظ نہیں (لوگ جھوٹی احادیث بیان کرکے اس کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کر دیتے ہیں) تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس سے کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ 

مذکورہ کتاب الحیل امام ابو حنیفہ یا حنفی آئمہ میں سے کسی کی بھی کتاب نہیں ہے۔  جس کی تفصیل قارئین یہاں  لنک پر دیکھ سکتے ہیں

 "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود

▪︎(سلسلہ ) المجروحین لابن حبان میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کے جوابات ۔


▪︎( سلسلہ )  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر متفرق اعتراضات

اعتراض نمبر31 : کتاب الحیل ، امام ابو حنیفہ کی تصنیف ہے ۔


تاریخ بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کے جوابات , اعتراض نمبر 89: کہ عبد الله بن المبارک نے کہا کہ ابو حنیفہ نے کتاب الحیل میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...