نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 24 : امام یعقوب فسوی (م 277ھ) اپنی کتاب المعرفة والتاریخ میں نقل کرتے ہیں کہ شریک کہتے ہیں : اگر کسی قبیلے میں شراب پینے والا (شرابی) شخص ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قبیلے میں ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کرے۔"

 


 کتاب "المعرفة والتاريخ" از یعقوب فسوی

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر 24 :

امام یعقوب فسوی (م 277ھ) اپنی کتاب المعرفة والتاریخ میں نقل کرتے ہیں کہ شریک   کہتے ہیں:  اگر کسی قبیلے میں شراب پینے والا (شرابی) شخص ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قبیلے میں ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کرے۔"


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ شَرِيكًا يَقُولُ: لئن يكون في قبيلة خمارا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِيهَا رَجُلٌ يَقُولُ بقول أبي حنيفة.

شریک کہتے ہیں :  اگر کسی قبیلے میں شراب پینے والا (شرابی) شخص ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قبیلے میں ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کرے۔"

(المعرفة والتاريخ - ت العمري - ط العراق 2/789 )


جواب :  قاضی شریک رحمہ اللہ ، یہ خود متکلم فیہ ہیں. کوفہ آنے کے بعد ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا. خود شریک پر محدثین کی کثیر الخطأ، کثیر الغلط و وہم، تغير ، سئی الحفظ، جیسی متعدد  جروحات ہیں. تو ایسے شخص کا کلام امام ابو حنیفہ کے خلاف قبول نہیں ہو سکتا جبکہ متن سے بھی واضح ہے کہ شریک نے انصاف سے کام نہ لیتے ہوئے تعصب کی بنیاد پر جرح کی ہے۔


شريك بن عبد الله بن الحارث بن شريك بن عبد الله

أبو أحمد الحاكم : ليس بالمتين

أبو حاتم الرازي : صدوق، له أغاليط

أبو دواد السجستاني : ثقة يخطئ علي الأعمش

أبو زرعة الرازي : كان كثير الخطأ، صاحب وهم، وهو يغلط أحيانا، فقيل له إنه حدث بواسط بأحاديث بواطيل فقال: لا تقل بواطيل

أبو عيسى الترمذي : كثير الغلط والوهم

أحمد بن شعيب النسائي : ليس به بأس، ومرة: ليس بالقوي

إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : سيئ الحفظ مضطرب الحديث مائل

ابن أبي حاتم الرازي : صدوق له أغاليط

ابن حجر العسقلاني : صدوق يخطىء كثيرا، تغير حفظه منذ ولي القضاء بالكوفة، وكان عادلا فاضلا عابدا شديدا على أهل البدع، سمع من أبيه ولكن شيئا يسيرا، مرة: مختلف فيه وما له سوى موضع في الصحيح

الدارقطني : ليس بالقوي

يعقوب بن شيبة السدوسي : صدوق ثقة سيئ الحفظ جدا وعن ابن رجب الحنبلي عنه: كتب صحاح وحفظه فيه اضطراب



قاضی شریک کے برعکس امام ابن المبارک،امام حماد بن زید،امام وکیع،امام سفیان بن عیینہ،امام ابن عوانہ ،امام ابو نعیم فضل بن دکین وغیرہ جو صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے امام اعظم سے روایت کی ہے یعنی ان تمام حضرات کے نزدیک امام اعظم ابو حنیفہ ثقہ تھے ، اور یہ بات واضح کرتی ہے کہ امام ابو حنیفہ ثقہ و معتبر اور معتمد علیہ امام تھے جن سے کثیر تعداد میں حفاظ نے روایات کیں ہیں۔ اس کے علاوہ امام حفص بن غیاث اور ابو عاصم النبیل جو صحیحین کے ثقہ ثبت راوی ہیں ، داود الخریبی رحمہ اللہ بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ، داود الطائی اپنے زہد و تقوی میں امام سمجھے جاتے تھے و دیگر حفاظ کا امام اعظم سے حدیثیں روایت کرنا امام اعظم کی علم حدیث میں مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز "  کی ویب سائٹ پر موجود


 قاضی شریک سے منقول امام ابو حنیفہؒ کے خلاف جرح اور تنقیص  قابلِ قبول نہیں۔
(تاريخ ابن معين - رواية الدوري ٣/‏٣٠٤ )

 مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز "  کی ویب سائٹ پر موجود

تبصرے