نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 43 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ شریک کہتے ہیں: اگر کوفہ کے ہر ایک حصّے (محلے) میں شراب بیچنے والا ایک شرابی ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کی رائے کی بات کرے (یعنی ان کے طریقے پر فتویٰ دے)

 

 کتاب  الكامل في ضعفاء الرجال  از محدث امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ)

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر 43 :

امام  ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ)  اپنی کتاب  الكامل میں  نقل کرتے ہیں   کہ شریک   کہتے ہیں:  اگر  کوفہ کے ہر ایک حصّے (محلے) میں شراب بیچنے والا ایک شرابی ہو تو یہ اس سے بہتر ہے    کہ  ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کی رائے کی بات کرے (یعنی ان کے طریقے پر فتویٰ دے)


حَدَّثَنَا عَبد اللَّه بْنُ مُحَمد بن عَبد العزيز، حَدَّثني منصور بن أبي مزاحم سمعت شَرِيكا يقول لأن يكون في كل ربع من أرباع الكوفة خمار يبيع الخمر خير من أن يكون فيها من يقول بقول أبو حنيفة.


عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے منصور بن ابی مزاحم نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: میں نے شریک کو یہ کہتے ہوئے سنا: "یہ بات میرے نزدیک بہتر ہے کہ کوفہ کے ہر ایک حصّے (محلے) میں شراب بیچنے والا ایک شرابی (خمار) ہو، بنسبت اس کے کہ وہاں کوئی ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کی رائے کی بات کرے (یعنی ان کے طریقے پر فتویٰ دے یا فقہ بیان کرے)."

(الكامل في ضعفاء الرجال ٥/‏١٣)

جواب :  اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 24 : امام یعقوب فسوی (م 277ھ) اپنی کتاب المعرفة والتاریخ میں نقل کرتے ہیں کہ شریک کہتے ہیں: اگر کسی قبیلے میں شراب پینے والا (شرابی) شخص ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قبیلے میں ایسا شخص ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کرے۔"


تبصرے