اعتراض نمبر 2 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام عبد الرحمان بن مہدی رحمہ اللہ نے کہا امام ابو حنیفہؒ اسلام کو گرہ گرہ کھولنے والے ہیں اور ان سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا
کتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء از محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)
میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :
اعتراض نمبر 2 :
امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام عبد الرحمان بن مہدی رحمہ اللہ نے کہا امام ابو حنیفہؒ اسلام کو گرہ گرہ کھولنے والے ہیں اور ان سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ قُلْتُ: نَأْخُذُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، مَا يَأْثُرُهُ، وَمَا وَافَقَ الْحَقَّ؟ قَالَ: «لَا وَلَا كَرَامَةَ. جَاءَ إِلَى الْإِسْلَامِ يَنْقُضُهُ عُرْوَةً عُرْوَةً، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ شَيْءٌ»
احمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: ہم سے عبدالرحمٰن بن محمد نے روایت کی، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عمر نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے پوچھا: "کیا ہم امام ابو حنیفہ سے وہ آثار (روایات) لیں جو وہ نقل کرتے ہیں، اور وہ باتیں جو حق کے موافق ہوں؟"
انہوں نے جواب دیا: "نہیں، ہرگز نہیں! انہوں نے اسلام کو گویا گرہ در گرہ کھولنے کی کوشش کی ہے، ان سے کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔"
(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ، ج 9 ص 10 )
الجواب :
امام عبد الرحمن بن مہدیؒ جیسے جلیل القدر محدث کا یہ قول کہ "امام ابو حنیفہؒ اسلام کو گرہ گرہ کھولنے والے ہیں اور ان سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا" — نہ صرف سخت بلکہ مبالغہ آمیز ہے۔ یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ یہاں اعتدال اور انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ کیونکہ امام ابو حنیفہؒ کی علمی خدمات، فقہی بصیرت، لاکھوں شاگردوں کی تربیت اور امت کے اجتماعی قبولِ عام کو یکسر نظر انداز کرکے انہیں سراسر ناقابلِ قبول قرار دینا، تعصب کے بغیر ممکن نہیں۔اگر کسی عالم یا مجتہد کی رائے میں اختلاف ہو تو منصف ناقد اس کے اجتہاد کی خطا بیان کرتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ "ان سے کوئی چیز قبول نہیں" انصاف نہیں بلکہ افراط ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے باب میں یہی حد سے بڑھی ہوئی شدت ابن مہدیؒ کے تعصب کو ظاہر کرتی ہے۔
اس تعصب کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ عبد الرحمن بن مہدیؒ کے اپنے استاد، امام سفیان ثوریؒ، بہت سے فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کے موافق تھے۔ امام ابو سفیان صالح بن مہران فرماتے ہیں کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے صرف 15 مسائل میں اختلاف کیا تھا۔(حوالہ: طبقات المحدثين بأصبهان 218/2، تمام رواة ثقہ ہیں)۔ تو اگر واقعی ابو حنیفہؒ کا فہمِ دین "اسلام کو توڑنے" کے مترادف ہوتا، تو کیا ان کے استاد سفیان ثوریؒ بھی اسی الزام میں شریک قرار پاتے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ابن مہدیؒ کی سختی اصل میں تعصب کا نتیجہ ہے، دلیل کا نہیں۔ فقہی اعتبار سے بھی دیکھیں تو امام ابو حنیفہؒ اور امام سفیان ثوریؒ کے بہت سے مسائل یکساں ہیں۔ اب اگر ابو حنیفہؒ کی فقہ کو سراسر غلط کہا جائے تو لازمی طور پر سفیان ثوریؒ جیسے امام بھی اسی تنقید کی زد میں آئیں گے۔
عقائد کے باب میں بھی معاملہ بالکل واضح ہے۔ امام ابو جعفر طحاویؒ (م 321ھ) نے جو عقیدہ طحاویہ مرتب کیا ہے، وہ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں (امام ابو یوسف اور امام محمدؒ) کے عقائد کا نچوڑ ہے۔ یہی عقیدہ آج بھی پوری امت اہل سنت والجماعت میں متفقہ طور پر پڑھایا اور مانا جاتا ہے۔ کیونکہ "عقیدہ طحاویہ" میں جن عقائد کو بیان کیا گیا ہے، ان پر تمام ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کا اتفاق ہے — اور یہی عقائد امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے تسلیم شدہ عقائد ہیں۔ پس اگر ان عقائد کو حق سے متصادم قرار دیا جائے تو گویا پوری اہل السنۃ والجماعۃ کو اس پردے میں شامل ماننا پڑے گا، جو کہ قطعاً غیر ممکن اور باطل ہے۔۔ لہٰذا جب عقیدہ بھی درست ہے، تو پھر امام ابو حنیفہؒ سے روایت اور فقہ لینے میں کیا رکاوٹ ہے؟
یہاں سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ابن مہدیؒ کی جرح محض تعصب کی پیداوار ہے، حقیقت کی نہیں۔
اسی بنیاد پر یہ قطعی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے عقائد اہل سنت والجماعت کے متفقہ اصولوں کے مطابق ہیں، اور انہیں آج تک امت نے دل سے قبول کیا ہے۔ چنانچہ ابن مہدیؒ سے منقول تمام جروحات انصاف پر مبنی نہیں بلکہ متعصبانہ ہیں۔
اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق، متعصب ناقد کی جرح مردود ہوتی ہے۔ چونکہ یہاں امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کلی انکار اور انتہائی سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اس لیے ابن مہدیؒ کی یہ جرح ناقابلِ اعتماد ہے۔
امام عبد الرحمن بن مہدیؒ، چونکہ سفیان ثوریؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے، اس لیے ان کے مزاج میں بھی وہی رجحان نظر آتا ہے جو ان کے استاد کا تھا۔ امام ثوریؒ کا یہ کہنا کہ "مجھے ابو حنیفہ کی موافقت حق بات میں بھی پسند نہیں"(«العلل» رواية المروزي وغيره ص١٧٢) ایک واضح تعصب کو ظاہر کرتا ہے، اور یہی رنگ ان کے شاگرد عبد الرحمن بن مہدیؒ کے کلام میں بھی جھلکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ متاخرین ائمہ جرح و تعدیل جیسے امام مزیؒ، امام ذہبیؒ اور ابن حجرؒ نے ان سخت جروحات کو کوئی وقعت نہیں دی۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں