اعتراض نمبر 3 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے امام ابو حنیفہ کے رد میں تصنیف لکھ کر امام ابنِ مہدی کی خدمت میں پیش کی۔
کتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء از محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)
میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :
اعتراض نمبر 3 :
امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے امام ابو حنیفہ کے رد میں تصنیف لکھ کر امام ابنِ مہدی کی خدمت میں پیش کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: شَهِدْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ - وَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ، وَصِيفَةً لَهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ - فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَخْبَرَ أَنَّهُ، وَضَعَ كُتُبًا مِنَ الرَّأْيِ، وَابْتَدَعَ ذَلِكَ فَجَعَلَ يَقُولُ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِ، وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ قَرَّبَهُ وَأَدْنَاهُ، فَلَمَّا جَاءَهُ رَأَيْتُهُ دَخَلَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرِيضٌ فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَعَدَ، فَقَالَ لَهُ: «يَا هَذَا مَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْكَ. إِنَّكَ ابْتَدَعْتَ كُتُبًا أَوْ وَضَعْتَ كُتُبًا فِي الرَّأْيِ»، فَأَرَادَ أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَيْهِ بِسُوءِ رَأْيِهِ فِي أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّمَا وَضَعْتُ كُتُبًا رَدًّا عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ: «تَرُدُّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِآثَارِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَآثَارِ الصَّالِحِينَ؟» فَقَالَ: لَا. فَقَالَ: «إِنَّمَا تَرُدُّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِآثَارِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَآثَارِ الصَّالِحِينَ، فَأَمَّا مَا قُلْتَ فَرَدُّ الْبَاطِلِ بِالْبَاطِلِ. اخْرُجْ مِنْ دَارِي، فَمَا كُنْتُ أَضَعُ أَوْ أَتَّبِعُ حُرْمَةً عِنْدَكَ، وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا»، فَذَهَبَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ لَهُ: «مُحَرَّمٌ عَلَيْكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ أَوْ تَتَمَكَّنَ فِي دَارِي فَقَامَ وَخَرَجَ»
عبد الرحمن بن عمر کہتے ہیں: میں عبد الرحمن بن مہدیؒ کے پاس موجود تھا، وہ کسی بغدادی شخص سے ایک باندی خریدنا چاہتے تھے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو عبد الرحمن بن مہدیؒ نے بتایا کہ اس نے کچھ "کتب الرأي" (یعنی رائے پر مبنی کتابیں) تصنیف کی ہیں اور بدعت کی ہے۔ پھر عبد الرحمن بن مہدیؒ کہنے لگے: "ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس کے شر سے"۔
(راوی کہتا ہے) کہ عبد الرحمن بن مہدیؒ کی یہ عادت تھی کہ جب وہ (شخص) ان کے پاس آتا تو اسے قریب بٹھاتے اور عزت دیتے۔ لیکن ایک دن وہ آیا جب عبد الرحمن بن مہدیؒ بیمار تھے، اس نے آ کر سلام کیا مگر عبد الرحمن نے جواب نہ دیا۔ وہ بیٹھ گیا۔ تو عبد الرحمنؒ نے کہا:
"اے شخص! میرے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے کچھ نئی کتابیں تصنیف کی ہیں یا رائے پر مبنی کتابیں لکھی ہیں؟"
اس نے عبد الرحمن بن مہدیؒ کو خوش کرنے کے لیے امام ابو حنیفہؒ کے خلاف بات کرنا چاہی اور کہا: "اے ابو سعید! میں نے تو یہ کتابیں صرف ابو حنیفہؒ کے رد میں لکھی ہیں۔"
تو عبد الرحمن بن مہدیؒ نے فرمایا: "کیا تم ابو حنیفہؒ کا رد رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور صالحین کے آثار سے کرتے ہو؟" اس نے کہا: "نہیں۔"
عبد الرحمن بن مہدیؒ نے فرمایا: "یاد رکھو! ابو حنیفہؒ کا رد صرف رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور صالحین کے آثار سے ہوسکتا ہے۔ اور تمہارا یہ کام تو باطل کا باطل کے ساتھ رد ہے۔ اب میری گھر سے نکل جاؤ! تمہارے پاس میری نظر میں کوئی عزت باقی نہیں رہی، چاہے تمہارے پاس کچھ بھی ہو۔"
وہ شخص کچھ کہنے لگا تو عبد الرحمن بن مہدیؒ نے کہا: "میرے گھر میں تمہارا بولنا یا جمنا حرام ہے۔" پھر وہ شخص اٹھا اور باہر چلا گیا۔
(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ٩/٩ )
الجواب :
یہ واقعہ واضح دلیل ہے کہ امام عبدالرحمٰن بن مہدیؒ خود امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت کے معترف تھے۔ اس شخص نے جب یہ کہا کہ اس نے امام ابو حنیفہؒ کے رد میں کتاب لکھی ہے، تو ابن مہدیؒ نے نہ صرف اسے جھڑک دیا بلکہ یہ حقیقت بیان کی کہ: "ابو حنیفہؒ کا رد صرف قرآن و سنت اور آثار صالحین کے ساتھ ہو سکتا ہے، محض رائے سے نہیں۔"
یہ جملہ دراصل اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے دلائل قرآن و سنت پر مبنی اور مضبوط تھے۔ اگر وہ دلائل کمزور یا محض قیاس پر ہوتے، تو ان کا رد عام رائے اور قیاس سے ممکن تھا۔ لیکن جب خود ابن مہدیؒ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا رد صرف قرآن و سنت کے ساتھ ہی ممکن ہے، تو یہ ان کے اجتہاد اور علمی بنیادوں کی پختگی کی سب سے بڑی گواہی ہے۔
اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس میں امام ابو حنیفہؒ کی باتوں کو بھی "باطل" کہا گیا ہے، تو جواب یہ ہیکہ امام ابو حنیفہؒ کی فقہ اور عقیدہ دونوں صحیح تھے۔ اگر واقعی ان کی فقہ میں خرابی ہوتی، تو امام سفیان ثوریؒ (جن سے ابن مہدیؒ نے علم لیا) بھی اسی زد میں آتے، کیونکہ ان کے اصول و اجتہاد ، فقہ حنفی قریب قریب تھے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سفیان ثوریؒ کو بھی جلیل القدر امام مانا جاتا ہے۔
لہٰذا اس واقعے کو امام ابو حنیفہؒ کے خلاف پیش کرنا محض دھوکہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت، ان کے استدلال کی قوت اور ان کے مخالفین کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
مزید تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں