نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 4 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام حمّاد بن زید نے امام ابو حنیفہ کو بدعت کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ انہوں نے سنتوں کو اپنے قیاس کے ذریعے باطل کیا ہوا ہے۔

 


کتاب  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء  از  محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) 

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر  4 :

امام  أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)  اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں  کہ امام حمّاد بن زید نے امام ابو حنیفہ کو بدعت کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ انہوں نے سنتوں کو اپنے قیاس کے ذریعے باطل کیا ہوا ہے۔


حدثنا سليمان بن أحمد ، ثنا طالب بن فسره الأدنى ، ثنا محمد بن عيسى بن الطباع ، حدثني أخي إسحاق بن عيسى ، قال : كنا عند حماد بن زيد ومعنا وهب بن جرير ، فذكرنا شيئا من قول أبي حنيفة ، قال حماد بن زيد : اسكت ولا يزال الرجل منكم داحضا في بوله يذكر أهل البدع في مجلس عشيرته حتى يسقط من أعينهم ، ثم أقبل علينا حماد ، فقال : أتدرون ما كان أبو حنيفة ، إنما كان يخاصم  في الإرجاء فلما تخوف على مهجته تكلم في الرأي  ، فقاس سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعضها ببعض ليبطلها ، وسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقاس .

اسحاق بن عیسیٰ نے کہا: ہم امام حماد بن زید کے پاس تھے اور ہمارے ساتھ وہب بن جریر بھی تھے۔ ہم نے امام ابو حنیفہ کے کچھ اقوال کا ذکر کیا، تو حماد بن زید نے کہا: "چپ رہو! تم میں سے آدمی اپنے پیشاب میں لت پت رہتا ہے، (پھر) اہلِ بدعت کا ذکر اپنی قوم کی مجلس میں کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کی نظروں سے گر جاتا ہے۔"

پھر حماد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: "جانتے ہو ابو حنیفہ کیا تھا؟ وہ ابتدا میں مسئلہ ارجاء میں جھگڑتا تھا، پھر جب اپنی جان کا خطرہ محسوس کیا تو رائے کی باتیں کرنے لگا، اور اس نے نبی ﷺ کی سنتوں کو قیاس کرنے لگا تاکہ انہیں باطل کرے، حالانکہ نبی ﷺ کی سنتوں پرقیاس نہیں کیا جا سکتا۔

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 6/259)

جواب : اس روایت کا مدار "طالب بن قرة الأذني" پر ہے، جو مجہول الحال اور غیر معروف راوی ہے۔  محقق أبو الطيب نايف المنصوري نے اس راوی پر مجہول الحال کا حکم لگایا ہے۔  ( إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني 336 )

محدثین نے اس کی کوئی ثقاہت ذکر نہیں کی ، بعض جگہ اس راوی کے نام میں طَالِبُ بْنُ مَسَرَّةَ الْأَدْنَى  ہے ، بعض جگہ طالب بن فسره الأدنى ، جبکہ صحیح نام  طالب بن قرة الأذني  ہے جیسا کہ طبرانی میں موجود ہے ، اور یہ راوی مجہول ہے ،  لہذا روایت ضعیف ہے۔ 





 مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود

 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...