اعتراض نمبر 10 : غلیظ نجاست جیسے کہ ناپاک خون اور پیشاب اور شراب اور مرغ کی بیٹ اور گدھے کا پیشاب وغیرہ کپڑے پر یا جسم پر بقدر ایک درہم کے لگا ہوا ہو تو بھی نماز ہو جائے گی۔
اعتراض نمبر 10
قدر الدرهم وما دونه من النجس المغلظ كالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول الحمار جازت الصلوة معه (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۱ باب الانجاس) یعنی غلیظ نجاست جیسے کہ ناپاک خون اور پیشاب اور شراب اور مرغ کی بیٹ اور گدھے کا پیشاب وغیرہ کپڑے پر یا جسم پر بقدر ایک درہم کے لگا ہوا ہو تو بھی نماز ہو جائے گی۔ (بقدر درہم سے مراد تھیلی کی چوڑائی کے برابر ہے اور وزن میں ایک مثقال) (هدايه يوسفي ج ۱ ص ۷۲، باب الانجاس) (درایت محمدی ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶)
جواب:
بے شک فقہاء علیہم الرحمہ نے ایسا لکھا ہے لیکن یہ معافی بہ نسبت صحت نماز ہے نہ یہ بہ نسبت گناہ کے۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کرنے والے کو گناہ بھی نہیں۔ خود فقہاء رحمہ اللہ علیہم نے تصریح فرمائی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔
در مختار میں ہے:
عفا الشارع عن قدر درهم وإن كره تحريما فيجب غسله. (در مختار)
شارع نے قدرِ درہم معاف کیا ہے اگرچہ مکروہ تحریمی ہے، پس اس کا دھونا واجب ہے۔
معلوم ہوا کہ جس کپڑے کو بقدر درہم نجاست لگی ہوگی، اس میں نماز پڑھنا ہمارے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ اس کا دھونا واجب اور نماز کا اعادہ واجب ہے۔ كما قال الشيخ عبد الحي اللكنوي في عمدة الرعاية ج ۱ ص ۱۵۰:
أشار إلى أن العفو عنه بالنسبة إلى صحة الصلاة فلا ينافي الإثم.
کہ یہ معافی بہ نسبت صحت نماز ہے، نہ یہ کہ اس کو گناہ نہیں۔
اور یہ اجازت ہی اس صورت میں ہے کہ دھونے کے لیے پانی یا دوسرا پاک کپڑا نہ ملے۔ اگر پانی میسر ہے اور وقت کی گنجائش بھی ہے تو اسے دھو لینا چاہیے۔
چنانچہ فتاویٰ غیاثیہ ص ۱۳ میں ہے:
دخل في الصلاة فرأى في ثوبه نجاسة أقل من قدر الدرهم وكان في الوقت سعة فالأفضل أن يقطع أو يغسل الثوب ويستقبلها في جماعة أخرى وإن فاتته هذه ليكون مؤديا فرضه على الجواز بيقين، فإن كان عادما للماء أو لم يكن في الوقت سعة أو لا يجد جماعة أخرى مضى عليها وهو الصحيح.
یعنی نماز شروع کی تو دیکھا کہ کپڑے میں قدرِ درہم سے کم نجاست ہے اور وقت میں فراخی ہے تو افضل یہ ہے کہ نماز قطع کر کے کپڑا دھو ڈالے اور دوسری جماعت میں نئے سرے سے شروع کرے اگرچہ یہ جماعت اس کی فوت بھی کیوں نہ ہو جائے، تاکہ اس کے فرض یقیناً ادا ہو جائیں۔ اور اگر پانی نہیں یا وقت میں وسعت نہیں یا دوسری جماعت ملنے کی امید نہیں تو اسی کے ساتھ نماز پڑھ لے۔
طحطاوی فرماتے ہیں:
المراد عفا عن الفساد به وإلا فكراهة التحريم باقية إجماعًا إن بلغت الدرهم وتنزيها إن لم تبلغ. (طحطاوي على مراقي الفلاح ص ۹۰)
یعنی عفو سے مراد ہے کہ نماز فاسد نہیں ورنہ کراہت تحریمی اجماعاً باقی رہتی ہے اگر نجاست درہم کو پہنچے، اگر درہم سے کم ہو تو کراہت تنزیہی رہتی ہے۔
معلوم ہوا کہ اگر بقدر درہم نجاست کے ساتھ نماز پڑھے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی جس کا اعادہ واجب اور کپڑے کا دھونا واجب ہے۔ پس دیانت کا تقاضا تو یہ تھا کہ معترض ان تمام باتوں کو بھی لکھتا پھر اعتراض کرتا تا کہ ناظرین کو اصل مذہب کا پتہ لگ جاتا۔ مگر یہاں تو عوام کو صرف مغالطہ میں ڈال کر مذہب حنفی سے بے گانہ کرنا مقصود تھا۔ دیانت سے کیا کام؟
جب اصل مسئلہ معلوم کر چکے تو اس معافی کا ماخذ بھی معلوم کر لینا چاہیے۔ یہ معافی فقہاء نے استنجاء بالاحجار سے اخذ کی ہے کیونکہ ظاہر ہے پتھر ڈھیلے مزیلِ نجاست نہیں ہیں بلکہ مجفف اور منشف ہیں تو موضعِ غائط کا نجس ہونا شریعت نے نماز کے لیے معاف کیا ہے اور وہ قدرِ درہم ہوتا ہے، اس لیے فقہاء نے نماز کے لیے بقدرِ درہم معاف لکھا ہے۔
نووی شرح صحیح مسلم میں حدیث اذا استيقظ أحدكم من منامه کے بعض فوائد میں سے لکھتے ہیں:
منها أن موضع الاستنجاء لا يطهر بالأحجار بل يبقى نجسا معفوا عنه في حق الصلاة. (نووي ص ۱۳۶)
یعنی بعض فوائد میں سے یہ ہے کہ استنجاء کی جگہ پتھروں سے پاک نہیں ہوتی بلکہ نجس رہتی ہے جو نماز کے حق میں معاف ہے۔
اسی طرح حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں۔ ہدایہ شریف میں ہے:
قدرناه بقدر الدرهم أخذا عن موضع الاستنجاء. ص ۵۸
کہ وہ قلیل نجاست جو کہ عفو ہے ہم نے اس کا اندازہ بقدرِ درہم رکھا اور اس کا ماخذ استنجاء کی جگہ (کا معاف ہونا) ہے۔
علامہ شامی فرماتے ہیں:
قال في شرح المنية إن القليل عفو إجماعًا إذ الاستنجاء بالحجر كاف بالإجماع وهو لا يستأصل النجاسة، والتقدير بالدرهم مروي عن عمر وعلي وابن مسعود وهو مما لا يعرف بالرأي فيحمل على السماع اهـ. وفي الحلية: التقدير بالدرهم وقع على سبيل الكناية عن موضع خروج الحدث من الدبر كما أفاده إبراهيم النخعي بقوله إنهم استكرهوا ذكر المقاعد في مجالسهم فكنوا عنه بالدرهم، ويعضده ما ذكره المشائخ عن عمر أنه سئل عن القليل من النجاسة في الثوب فقال: إذا كان مثل ظفري هذا يمنع جواز الصلاة؟ قالوا: وظفره كان قريبا من كفنا. اهـ. (شامي ج ۱ ص ۲۳۱)
شرح منیہ میں کہا ہے کہ نجاستِ قلیل اجماعاً معاف ہے کیونکہ پتھروں سے استنجاء کرنا بالاجماع کافی ہے اور وہ نجاست کو بالکل ختم نہیں کرتا۔ اور درہم کا اندازہ حضرت عمر، علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ چونکہ اس میں رائے کا دخل نہیں اس لیے سماع پر محمول ہوگا۔ اور حلیہ میں ہے کہ درہم کا اندازہ بطور کنایہ ہے دبر سے، جیسے کہ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اپنی مجالس میں مقاعد کا ذکر برا سمجھا تو کنایۃً درہم سے تعبیر کیا۔ اور اس کی تائید کرتا ہے جو مشائخ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر سے جب قلیل نجاست کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: جب میرے ناخن کے مثل ہو تو نماز کے جواز کو منع نہیں کرتا۔ کہتے ہیں کہ آپ کا ناخن ہماری ہتھیلی (کی مقدار) کے برابر ہے۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ قدرِ درہم بھی صحابہ سے مروی ہے۔ واللہ الحمد۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں