نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 11 : اگر نجاست خفیف ہو اور اس سے کپڑا نجس ہو گیا ہو، اگر چوتھے حصے سے کم ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔


 اعتراض نمبر 11


إن كانت مخففة جازت الصلاة معه حتى يبلغ ربع الثوب يروى ذلك عن أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۲ باب الانجاس) یعنی اگر نجاست خفیف ہو اور اس سے کپڑا نجس ہو گیا ہو، اگر چوتھے حصے سے کم ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶)


جواب:


امام اعظم کے نزدیک نجاست مغلظہ وہ ہے جس کی نجاست میں نص وارد ہو اور اس کے معارض کوئی نص نہ ہو۔


نجاست مخففہ وہ ہے جس کے معارضہ میں کوئی نص ہو۔


علامہ شامی ج ۱ ص ۲۳۲ میں فرماتے ہیں:


اعلم أن المغلظ من النجاسة عند الإمام ما ورد فيه نص لم يعارض بنص آخر، فإن عورض بنص آخر فمخفف كبول ما يؤكل لحمه.


جانئے کہ جس میں نص بلا معارضہ وارد ہو وہ نجاست مغلظہ ہے اور جس میں دوسری نص معارض ہو وہ مخففہ ہے جیسے حلال جانوروں کا بول۔


علامہ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح ص ۸۸ میں فرماتے ہیں:


إن الإمام رضي الله عنه قال: ما توافقت على نجاسته الأدلة فمغلظ سواء اختلف فيه العلماء وكان فيه بلوى أم لا، وإلا فهو مخفف.


امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس چیز کی نجاست پر ادلہ متفق ہوں وہ مغلظ ہے، اس میں علماء کا اختلاف ہو یا نہ ہو اور عمومِ بلوٰی ہو یا نہ ہو، اور جس چیز کی نجاست پر دلائل متفق نہیں وہ مخفف ہے۔


معلوم ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک نجاست خفیفہ وہ ہے جس کی نجاست اور طہارت میں دلائل کا تعارض ہو۔ یعنی بعض دلائل سے اس شے کا نجس ہونا ثابت ہوتا ہے اور بعض سے پاک ہونا۔


چند مثالیں:


حلال جانوروں کے بول کا بعض روایات سے پاک ہونا ثابت ہوتا ہے، چنانچہ حدیث عرنیین جس میں ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا بول پینے کی اجازت فرمائی۔ اور حدیث حسن بصری جس میں انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے حج تمتع سے روکنے کا ارادہ کیا تو ابی بن کعب نے فرمایا:


ليس ذلك لك


کہ تمہیں روکنے کا حق نہیں کیونکہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا۔


حضرت عمرؓ نے بصرہ کے حلوں سے منع کرنے کا ارادہ کیا، اس لیے کہ وہ بولِ ماکول اللحم سے رنگے جاتے تھے تو ابی بن کعب نے فرمایا:


ليس ذلك لك، قد لبسهن النبي ولبسناهن في عهده.


کہ اس کے روکنے کا آپ کو حق نہیں پہنچتا۔ ان حلوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور آپ کے عہد مبارک میں ہم نے بھی پہنا۔


اس حدیث کو امام احمد نے مسند ابی بن کعب میں روایت کیا۔


نیز حدیث جابر و براء رضی اللہ عنہما کے مطابق حلال جانوروں کے بول میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بعض روایات سے ناپاک ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ مجتہد (امام اعظم) کی نظر میں اختلاف اور تعارض کے باعث ایقان حاصل نہ ہوا، اس لیے آپ نے اس کو نجاست خفیفہ فرمایا اور نجاست خفیفہ کے ساتھ بھی نماز پڑھنا مکروہ فرمایا اگرچہ ربع سے کم ہو۔


ابن ہمام فتح القدیر ج ۱ ص ۸۱ میں فرماتے ہیں:


والصلاة مكروهة مع ما لا يمنع


کہ (جس قدر نجاست معاف ہے) اس کے ساتھ بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔


بلکہ زیادہ لگ جانے سے تو امام اعظم اعادہ نماز کا حکم فرماتے ہیں۔


چنانچہ آثار امام محمد ص ۱۵ میں ہے:


وكان أبو حنيفة يكرهه وكان يقول: إذا وقع في وضوئه أفسد الوضوء، وإن أصاب الثوب منه شيء ثم صلى فيه أعاد الصلاة.


امام ابو حنیفہ بولِ بہائم کو مکروہ گردانتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر وضو کے پانی میں (بہائم کے بول سے کچھ) گر جائے تو وضو کو فاسد کر دے گا۔ اگر اس میں سے زیادہ کپڑے کو لگے اور کوئی شخص اس میں نماز پڑھے تو چاہیے کہ نماز کا اعادہ کرے۔


معلوم ہوا کہ نجاست خفیفہ جب کہ زیادہ لگ جائے تو امام صاحب کے نزدیک نماز دہرانا ضروری ہے اور بہت کا اندازہ ربع کپڑے یا بدن کے اس حصہ کا ہے جس کو نجاست لگی ہے۔ اگر آستین کو لگی ہے تو آستین کا ربع، دامن پر ہے تو دامن کا ربع مراد ہے۔ اور اسی پر اکثر مشائخ علیہم الرحمۃ کا فتویٰ ہے۔ علامہ شامی نے تحفہ، محیط، مجتبیٰ اور سراج سے اس کی تصحیح نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ در حقیقت اسی پر فتویٰ ہے۔


معلوم ہوا کہ ربع کل کپڑے کا مراد نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ ربع اس حصے کا مراد ہے جس پر نجاست خفیفہ لگی ہے۔ چونکہ چوتھائی کو بعض احکام میں کل کا حکم ہے، اس لیے کپڑے یا بدن کے چوتھائی کو حضرت امام صاحب نے کل کا حکم دیا ہے۔


اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایسی نجاست جس پر نصوص متفق نہیں، اگر کپڑے پر کپڑے کے اس حصہ کی چوتھائی سے کم لگے تو نماز میں معلوم ہو جانے پر نماز کو اس صورت میں توڑا جائے گا جب کہ فوتِ جماعت یا فوتِ وقت کا خوف نہ ہوگا۔ اندرین صورت کپڑے کو دھو کر دوبارہ نماز ادا کی جائے گی۔ اگر اس کپڑے سے نماز ادا کی گئی تو مکروہ ہوگی، مگر ادا ہو جائے گی۔ اور وہ بھی اس تقدیر پر کہ دوسرا جامۂ طاہر میسر نہ ہو۔


(دیکھو کشف الالتباس نواب صدیق حسن ص ۲۶۸)


اب فرمائیے کہ اس مسئلہ پر کیا اعتراض ہے؟ اور کس آیت یا حدیث کے برخلاف ہے؟


غیر مقلدین کے نزدیک اگر سارا کپڑا نجاست خفیفہ سے تر ہو تو بھی نماز ہو جائے گی کیونکہ ان کے نزدیک تو نہ صرف حلال جانوروں کا بلکہ حرام جانوروں کا بول بھی پاک ہے۔ چنانچہ وحید الزمان نزل الابرار جلد اول ص ۴۹ میں لکھتا ہے:


وكذلك الخمر وبول ما يؤكل لحمه وما لا يؤكل لحمه من الحيوانات.


اور اسی طرح شراب، حلال حیوانات اور حرام حیوانات کا بول بھی پاک ہے۔


شوکانی نے در بہیہ میں لکھا ہے:


فيما عدا ذلك خلاف والأصل الطهارة


(انسان کے پاخانہ اور بول، کتے کے لعاب، لید، خون، حیض اور خنزیر کے گوشت) کے ماسوا کے (نجس ہونے میں) اختلاف ہے اور اصل طہارت ہے۔


محی الدین غیر مقلد لاہوری نے بلاغ المبين کے ص ۳۲ میں لکھا ہے:


کہا بخاری نے کہ آنحضرت نے آدمیوں کے پیشاب کے سوا کسی چیز کے دھونے کا حکم نہیں دیا۔


اسی طرح نواب صدیق حسن نے بھی لکھا ہے:


پس جب معترض کے اکابر کے ہاں حلال اور حرام جانوروں کا بول پاک ہے اور پاک شے سے اگر سارا کپڑا بھیگا ہوا ہو تو بھی نماز کا مانع نہیں، پھر وہ کس منہ کے ساتھ امام اعظم کے مسئلہ پر اعتراض کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک تو نجاست غلیظہ سے بھی کپڑا اگر تر ہو تو نماز ہو جاتی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں تعلیقاً آیا ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں ایک شخص کو تیر لگا اور خون جاری ہو گیا، اسی حالت میں وہ نماز پڑھتا رہا۔ خون کا جاری ہونا ظاہر ہے کہ کپڑے اور بدن کو تر کر دیتا ہے۔ خون نجاست غلیظہ ہے۔ اس کے باوجود ایک صحابی کا نماز پڑھتے رہنا ثابت ہوا اور وہ بھی صحیح بخاری سے، پھر امام صاحب پر اعتراض کرتے ہوئے کچھ تو شرم چاہیے۔ افسوس کہ معترض کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آیا لیکن دوسروں کے تنکے کو پہاڑ سمجھ رہا ہے۔


------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے