نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۱۳: ایک شخص عربی میں اچھی طرح پڑھ سکتا ہے، باوجود اس کے فارسی میں قرآن کے معنی پڑھتا ہے، قرآن نماز میں نہیں پڑھتا، اللہ اکبر کے بدلہ میں بھی اس کا ترجمہ فارسی میں پڑھ دیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے۔


 اعتراض نمبر ۱۳:


فإن افتتح الصلوة بالفارسية أو قرأ فيها أو ذبح وسمى بالفارسية وهو يحسن العربية أجزأ عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۵ باب صفة الصلوة)


یعنی ایک شخص عربی میں اچھی طرح پڑھ سکتا ہے، باوجود اس کے فارسی میں قرآن کے معنی پڑھتا ہے، قرآن نماز میں نہیں پڑھتا، اللہ اکبر کے بدلہ میں بھی اس کا ترجمہ فارسی میں پڑھ دیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔ اور امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر وہ "اللہ" و "اللہ اکبر" نہ کہے اور فارسی میں اللہ کا نام لے کر ذبح کر ڈالے تو بھی جائز ہے بلکہ اس صفحہ میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ فارسی کی بھی کوئی قید نہیں، بأي لسان كان یعنی جس زبان میں چاہے ترجمہ ادا کر دے۔

(درایت محمدی، مسئلہ نمبر ۱۳، ص ۹۲، ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶)

جواب:



افسوس کہ معترض کو تعصب نے اندھا کر دیا کہ اس کو ہدایہ شریف کی یہ عبارت نظر نہ آئی جو اس کے آگے لکھی ہے:

يروى رجوعه في أصل المسئلة إلى قولهما وعليه الاعتماد. (هدايه ص ٨٦)


امام اعظم کا اس مسئلہ میں صاحبین کے قول کی جانب رجوع مروی ہے اور اسی پر اعتماد (فتویٰ) ہے۔


در مختار میں بھی اسی پر فتویٰ لکھا ہوا ہے۔


پس جس مسئلہ میں امام صاحب کا رجوع ثابت ہے اور فقہاء نے تصریح بھی کی اور فقہاء کا اس پر فتویٰ بھی نہ ہو، اس کو ذکر کر کے طعن کرنا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ جب خود صاحبِ ہدایہ نے اور دیگر فقہاء علیہم الرحمہ نے تصریح فرما دی کہ قرآن کے معنی ہی نماز میں پڑھنے سے نماز جائز نہیں، امام صاحب نے اپنے پہلے قولِ جواز سے رجوع فرما لیا ہے، تو اب قولِ مرجوع عنہ کو پیش کر کے طعن کرنا غیر مقلدین ہی کا خاصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ضد اور تعصب سے بچائے۔ آمین۔


------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...