مخالفینِ احناف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی علمی تنقید و تنقیص کے لیے تاریخ کی کتابوں سے چن چن کر ایسی روایات لاتے ہیں جن کی حیثیت علمِ رجال کی ترازو میں پرِ کاہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ روایت کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ شَرِيكٍ، فَقَالَ: مَنْ ذُكِرَ هَا هُنَا مِنْ أَصْحَابِ يَعْقُوبَ فَأَخْرِجُوهُ.
ترجمہ: علی بن حجر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم قاضی شریک کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے کہا: جو بھی یہاں یعقوب (یعنی امام ابو یوسف) کے ساتھیوں میں سے ذکر کیا جائے، اسے یہاں سے نکال دو۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
جواب
اس روایت کو اچھالنے والے نادان اس بنیادی نقطے سے بالکل غافل ہیں کہ جرح و تعدیل کے بھی کچھ مسلمہ قوانین ہیں، جن کی رو سے یہ روایت علمِ حدیث کے کوچے میں داخل ہونے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔
١. معاصرانہ چشمک اور اصولِ جرح و تعدیل کی پامالی
قاضی شریک رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ہم عصر (معاصر) تھے۔ کسی بھی معاصر کی جرح اس وقت تک درخورِ اعتنا نہیں ہوتی جب تک اس کے پیچھے کوئی واضح، مفسر اور علمی سبب موجود نہ ہو۔ مذکورہ روایت میں قاضی شریک نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے حافظے، دیانت، یا ان کی مرویات پر کوئی علمی یا فنی گرفت نہیں کی، بلکہ محض ایک جذباتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ علمِ حدیث کی بساط پر ایسے اقوال کو "جرح" نہیں بلکہ "معاصرانہ چشمک" اور تنک مزاجی کا نام دیا جاتا ہے۔
٢. خود جارح (قاضی شریک) کے ضبط و حافظے کا علمی جائزہ
تعجب کی بات یہ ہے کہ جو قاضی شریک امام ابو یوسف جیسے جبلِ استقامت اور جلیل القدر فقیہ کے اصحاب کو مجلس سے نکالنے کا حکم دے رہے ہیں، خود ان کے اپنے حافظے اور ضبط کا حال ائمہ نقد کے ہاں شدید مجروح ہے۔ جب جارح خود اپنے ضبط و اتقان کے لحاظ سے محلِ نظر ہو، تو اس کی ایسی مبہم اور غصے سے مغلوب جرح کی علمی وزن کیا رہ جاتا ہے؟ گرتی ہوئی دیوار کو تنکے کا سہارا نہیں دیا جا سکتا۔
٣. یہ جرح نہیں، بلکہ صریح تعصب ہے
قاضی شریک کا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے نامور تلامذہ کے تئیں شدید تعصب اور انقباضِ خاطر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تاریخِ رجال کا معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ وہ احناف کے معاملے میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھیوں کو محض ان کی نسبت کی وجہ سے مجلس سے اٹھا دینے کا حکم دینا سراسر تعصبِ نفسانی کی دلیل ہے، جس کا شریعت کے میزان اور علمی نقد و تبصرے سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قاضی شریک سے منسوب یہ روایت نہ تو کوئی جرحِ مسبَّب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علمی و فنی پایہ ہے۔ یہ محض ایک معاصر کی ذاتی ناپسندیدگی اور تعصب کا مظہر ہے جو غصے کی حالت میں صادر ہوا۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی جلالتِ علمی، ان کا زہد، ان کی فقاہت اور علمِ حدیث پر ان کی امامت اس قدر مسلمہ اور بلند ہے کہ قاضی شریک جیسے معاصرین کے تند و تیز جملے اس کے دامن کو چھو بھی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ ائمہ احناف بالخصوص امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں تعصب کی عینک اتار کر حق کو تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں