نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابن ابی حازم، شاکر دھوبی اور امام ابو یوسف کا واقعہ: ایک علمی و تحقیقی جائزہ


امام ابن ابی حازم، شاکر دھوبی اور امام ابو یوسف کا واقعہ: ایک علمی و تحقیقی جائزہ


 امام عقیلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس واقعے کو اِس طرح نقل کیا ہےحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ نَصْرِ الزَّيَّاتُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، صَلَاةُ الصُّبْحِ وَأَبُو يُوسُفَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَمَرَّ بِهِ شَاكِرٌ الْقَصَّارُ، فَقَالَ: يَا أَحْمَقُ، كَمْ تَرَى مَوْقِعَ هَاتَيْنِ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، أَنَضَعُ لَكَ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذَلَّكَ بِمَوْعِظَةِ الْقَصَّارِ شَاكِرٍ۔

 ہارون بن عبداللہ الزہری کو کہتے سنا کہ میں نے ابن ابی حازم سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں مسجد میں داخل ہوا تو صبح (فجر) کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، اور ابو یوسف (قاضی) فجر کی دو (سنت) رکعتیں پڑھ رہے تھے۔ تو ان کے پاس سے 'شاکر قصار' (دھوبی) گزرا، اس نے کہا: 'اے احمق! فرض نماز کے مقابلے میں ان دونوں (رکعتوں) کا کیا مقام سمجھتے ہو؟ کیا ہم (فرض نماز کی جماعت کو) تمہارے لیے روک دیں؟' (ابن ابی حازم کہتے ہیں) تو میں نے (دل میں یا ابو یوسف سے) کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ایک دھوبی (شاکر) کی نصیحت کے ذریعے ذلیل (عاجز) کر دیا۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨)

جواب: 

قاضی القضاۃ کی سادگیِ شعار اور کسرِ نفسی

مخالفینِ احناف کی یہ غایتِ جہالت اور سطحی فکر ہے کہ وہ اِس روایت کو ائمہِ احناف کی تنقیص کے لیے پیش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر تدبر کی آنکھ کھلی ہو تو اِس روایت سے خود مخالفین کے دعوے کی جڑ کٹتی ہے اور اس سے امامِ جلیل، قاضی القضاۃ ابو یوسف رحمہ اللہ کی کسرِ نفسی اور للہیت کا وہ متبحر وصف ثابت ہوتا ہے کہ وہ سلطنتِ اسلامیہ کے اتنے بڑے منصب پر متمکن ہونے کے باوجود، سادگیِ شعار دیکھیے کہ سلطنتِ اسلامیہ کے قاضی القضاۃ، جن کے قلم کی ایک جنبش سے ملکوں کے فیصلے صادر ہوتے تھے، وہ اِدارۂ مسجد پر اس طرح حاوی نہیں تھے کہ امامِ مسجد ان کا انتظار کرے۔ آج کے دور میں جہاں دنیا دار، متمول اور اثر و رسوخ والے لوگ ائمہِ مساجد کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں اور جب تک "حاجی صاحب" یا "شیخ صاحب" تشریف نہ لائیں، جماعت کھڑی کرنے کی جسارت نہیں کی جاتی، وہاں صاحبِ امام ابی حنیفہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ طرزِ عمل ان کی غایت درجے کی دیانت، للہیت اور انکساری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ وقتِ مقررہ پر جماعت قائم ہونے کو ترجیح دیتے تھے، نہ کہ اپنی ذات اور جاہ و جلال کو۔ پس معترضین کا اس روایت کو اچھالنا خود ان کے اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کی دلیل ہے۔

 ابنِ ابی حازم کی کم فہمی اور سنتِ صحابہ سے دوری

ابنِ ابی حازم کا ایک عامی (دھوبی) کی بات پر خوش ہونا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں دل میں کینہ یا استخفاف کے جذبات لانا، ان کی اپنی علمی نارسائی اور مسامحت پر دال ہے۔ کاش! انہوں نے قاضی صاحب پر معترض ہونے سے پہلے جلیل القدر صحابہ کرام کے آثار کا مطالعہ کیا ہوتا۔

فقہِ حنفی کا یہ پختہ موقف کہ "اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور مقتدی کو امید ہو کہ وہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہو سکتا ہے (اگرچہ قعدہ ہی میں سہی)، تو اسے مسجد کے ایک کونے یا ستون کے پیچھے سنتیں ادا کر لینی چاہئیں" الدر المختار: (56/2، ط: دار الفکر)،  یہ کوئی اختراعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ عینِ سنتِ صحابہ ہے۔ چنانچہ کتبِ احادیث میں اس کے قوی اور صحیح شواہد موجود ہیں:

  • اثرِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:

    [المعجم الكبير للطبراني، باب العين، حديث: 9385]  عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَالْإِمَامُ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى سَارِيَةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»  ترجمہ: عبد اللہ بن ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو امام فجر کی نماز پڑھا رہا تھا، آپ نے ایک ستون کی اوٹ میں فجر کی دو رکعت سنتیں ادا کیں، جو آپ پہلے ادا نہیں کر سکے تھے۔ 

  • تصحیحِ اثر: حافظ الہیثمی مجمع الزوائد (حدیث: 2392) میں فرماتے ہیں کہ اس کے رجال ثقہ ہیں۔ جبکہ حافظ بدر الدین العینی رحمہ اللہ نے ‘نخب الافكار’ (78/6) میں صراحت کی ہے: ”أخرجه الطحاوي من ثلاث طرق صحيحة“ (امام طحاوی نے اسے تین صحیح طرق سے روایت کیا ہے)۔

  • اثرِ ابو درداء رضی اللہ عنہ:

    [شرح معاني الآثار للطحاوي، حديث: 2205؛ مصنف ابن أبي شيبة، حديث: 6578، تصحيح: شیخ سعد الشتری]  أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي الصَّلَاةِ۔  ترجمہ: وہ مسجد میں ایسے وقت میں آتے کہ لوگ فجر کی نماز میں صف باندھے کھڑے ہوتے، وہ مسجد کے ایک کونے میں دو رکعت (سنت) ادا کرتے، پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہوتے۔ 

جب سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہم جیسے جبالِ علم صحابہ کا یہ عمل تھا، تو قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ پر اعتراض اٹھانا دراصل خود اپنی علمی تہی دامنی کا اشتہار دینے کے مترادف ہے۔

 معترضین کی غفلت اور جہالت کا تماشا

اس (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨) روایت کے الفاظ پر غور کیجیے تو حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔ روایت کہتی ہے کہ "اقامت کہی جا چکی تھی"، یعنی ابھی تک تکبیرِ تحریمہ بھی نہیں ہوئی تھی اور نماز باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی، اور فقیہِ امت قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ سنتِ فجر کی ادائیگی میں مشغول تھے۔

اب یہاں دو کرداروں کی ذہنی پستی کھل کر سامنے آتی ہے:

  1. شاکر القصّار (دھوبی): یہ ایک عام بازاری آدمی ہے، جسے فقہ، استنباط اور اسرارِ حدیث کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ یہ شخص مسجد میں خشوع و خضوع اور اپنی نماز کی فکر کرنے کے بجائے، وقت کے سب سے بڑے مجتہد اور قاضی کو "احمق" کہہ رہا ہے! یہ جہالتِ مرکب نہیں تو اور کیا ہے؟ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ ”العوام کالانعام“ (عوام چوپایوں کی طرح ہوتے ہیں)۔ دھوبی کا کام کپڑے دھونا اور میل کچیل صاف کرنا ہے، فقہی موشگافیوں اور علمِ شریعت کے غوامض میں دخل دینا اس کے بس کا روگ نہیں۔

  2. ابنِ ابی حازم: موصوف کے لیے یہ مقامِ صد تاسف ہے کہ وہ نمازِ فجر جیسی اہم ترین عبادت کے لیے صف میں کھڑے ہیں، جہاں دل کو یادِ الٰہی میں مستغرق اور خاشع ہونا چاہیے تھا، وہاں ان کا پورا دھیان ایک دھوبی کے سوقیانہ اور جاہلانہ جملوں کی طرف لگا ہوا ہے! حد تو یہ ہے کہ وہ اس عامیانہ اور گستاخانہ جملے پر خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ (معاذ اللہ) قاضی صاحب ذلیل ہو گئے۔ سبحان اللہ! فقیہِ وقت کی سنت کے مطابق نماز پر تو ان کی نظرِ تحقیر پڑی، مگر ایک جاہل کی بدتمیزی اور نماز کی حالت میں خود اپنی غفلت پر انہیں کوئی شرمندگی محسوس نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی صاحب کی علمی جلالت اور استدلال کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی علمی دلیل نہیں تھی، اسی لیے انہیں ایک عامی دھوبی کے جملے کا سستا سہارا لینا پڑا۔ 
  3. روایت کا ایک اور منطقی و اخلاقی رخ

    اِس قصے کے دونوں ہی پہلو مخالفین کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں:

    اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دھوبی نے یہ بات تنہائی میں یا پیٹھ پیچھے ابنِ ابی حازم کے ساتھ کی تھی، تو یہ نماز میں مصروف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف ایک بدترین غیبت کی گئی تھی، جس پر ابنِ ابی حازم خوش ہو رہے تھے۔ ذرا فقہِ حنفی کے مخالفین کی علمی و اخلاقی حیثیت تو دیکھیے کہ ان کے استدلال کا مدار ایک غیبت پر ہے!

    اور اگر دوسری شق اختیار کی جائے کہ یہ بات امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے منہ پر کہی گئی تھی، تو اس روایت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قاضی صاحب باوجود اتنے بڑے فقیہ، مجتہد اور ملک کے قاضی القضاۃ ہونے کے، اِتنے حلیم الطبع اور صابر تھے کہ انہوں نے اپنے منصب کا رعب جھاڑتے ہوئے اس نچلے طبقے کے جاہل کی کوئی سرزنش یا سزا تجویز نہ کی اور کمالِ درگزر سے کام لیا۔ یہ جہاں قاضی صاحب کے اعلیٰ اخلاق، حلم اور وسعتِ ظرف کی بین دلیل ہے، وہاں فقہِ حنفی کے معترضین کی انتہائی اخلاقی پستی کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ایک جاہل کی بدتمیزی کو اپنی دلیل بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

  4. حاصلِ کلام:  اس پوری روداد سے مسلکِ حنفی کے اصولوں کی پختگی اور مخالفین کے اعتراضات کی سطحی لغو تازیانیت واضح ہو جاتی ہے۔ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کا دامن اس قسم کی جاہلانہ تنقید سے بالکل پاک ہے اور ان کا عمل عینِ آثارِ صحابہ کے مطابق تھا۔ اس مسئلے کی مزید تفصیلی، اِسنادی اور محققانہ بحث کے لیے مولانا رحمت اللہ صاحب کی کتاب "صلاة المسلم" اور  "کشف الغرر عن سنتہ الفجر" از مولانا حبیب الرحمن اعظمی مردان کا مطالعہ بے حد نافع اور ایمان افروز ہوگا۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...