اعتراض نمبر ۱۵:
لا يأتي بها بين السور والفاتحة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۷ باب صفة الصلوة)
یعنی سورہ فاتحہ پڑھ لی پھر دوسری سورت نماز میں پڑھے تو اس سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھے۔ (درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶)
جواب:
اس کا مطلب یہ ہے کہ سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا مسنون نہیں۔
بحر الرائق میں تصریح ہے:
فلا تسن التسمية بين الفاتحة والسورة
فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا مسنون نہیں۔
یہ نہیں کہ پڑھنا بھی جائز نہیں یا اس کا پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بحر الرائق ص ۳۱۲ میں ہے:
أما عدم الكراهة فمتفق عليه ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأن سمى بين الفاتحة والسورة كان حسنا عند أبي حنيفة.
ذخیرہ اور مجتبیٰ میں تصریح ہے کہ اگر فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھے تو امام صاحب کے نزدیک اچھا ہے۔
محقق ابن ہمام نے اس کو ترجیح دی اور علامہ شامی نے بھی یہی لکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ امام اعظم کے نزدیک فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا بہتر ہے البتہ مسنون نہیں۔ ہدایہ کی عبارت سے یہی مراد ہے۔
ہاں اگر معترض اس کو مسنون سمجھتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر بسم اللہ علی الدوام پڑھنا ثابت کرے۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں