امام ابو یوسفؒ کے خلاف رُستہ/ابنِ مہدی کی روایت کا تحقیقی جائزہ
ایک طویل عرصے سے فقہِ حنفی اور ائمہ احناف کے خلاف چند روایات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بعض حلقوں کا شیوہ رہا ہے۔ اسی قبیل کا ایک اعتراض امامِ جلیل، قاضی القضاۃ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک نام نہاد مناظرے یا گفتگو کو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اعتراض کی بنیاد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَاخْتَصَمَ إِلَيْكَ رَجُلَانِ فِي امْرَأَةٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، كَيْفَ الْقَوْلُ فِي ذَلِكَ؟ أَوْ كَيْفَ تَقْضِي؟ قَالَ: أَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَنَّهَا لِأَحَدِهِمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، قُلْتُ: فَإِنَّكَ دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ فَبَاتَ مَعَهَا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، رَأَيْتَ أَنَّهَا لِلْآخَرِ؟ قَالَ: آخُذُهَا فَأَدْفَعُهَا إِلَى الْآخَرِ، قُلْتُ: فَإِنَّكَ رَدَدْتَهَا إِلَى الْآخَرِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ رَأَيْتَ أَنَّهَا لِلْأَوَّلِ، قَالَ: أَرُدُّهَا إِلَيْهِ إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: فَمَا حُجَّتُكَ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: فَإِنَّ الرُّجُوعَ إِلَى الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، قُلْتُ لَهُ: يَا مَعْتُوهُ، وَهَذَا هَكَذَا الرُّجُوعُ إِلَى الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، هُوَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَاكِمُ بِالرَّأْيِ، ثُمَّ يَتَبَيَّنُ لَهُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَأَصْحَابِهِ فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ، وَأَمَّا قَوْلُكَ هَذَا فَهُوَ الرُّجُوعُ مِنَ الْبَاطِلِ إِلَى الْبَاطِلِ۔"
ترجمہ: عبد الرحمن بن عمر (رُستہ) کہتے ہیں کہ میں نے مسجدِ حرام میں امام ابو یوسف سے کہا: "اگر دو مرد آپ کے پاس ایک عورت کے بارے میں جھگڑا لے کر آئیں اور دونوں کے پاس کوئی گواہ (بينہ) نہ ہو، تو آپ کیا فیصلہ کریں گے؟" انہوں نے کہا: "میں غور کروں گا، جس کے حق میں میرا رجحان ہوگا، عورت اسے دے دوں گا۔" میں نے کہا: "اگر آپ نے وہ عورت اسے دے دی اور اس نے رات اس کے ساتھ گزاری، پھر اگلے دن آپ کی رائے بدل گئی کہ وہ دوسرے کی ہے؟" انہوں نے کہا: "میں اسے پہلے سے لے کر دوسرے کو دے دوں گا۔" میں نے کہا: "اگر اگلے دن پھر آپ کی رائے پہلے والے کے حق میں ہو گئی؟" انہوں نے کہا: "میں دوبارہ پہلے والے کو لوٹا دوں گا۔" میں نے کہا: "اس کی دلیل کیا ہے؟" انہوں نے کہا: "حضرت عمر بن خطاب کا حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا گیا خط، جس میں ہے کہ 'حق کی طرف رجوع کرنا باطل پر اڑے رہنے سے بہتر ہے'۔" اس پر (عبد الرحمن بن مہدی یا رُستہ نے) کہا: "اے معتوہ (کم عقل)! حق کی طرف رجوع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حاکم اپنی رائے سے فیصلہ کرے، پھر اسے نبی ﷺ یا صحابہ کی حدیث معلوم ہو جائے تو وہ اپنی رائے چھوڑ کر حدیث کی طرف رجوع کر لے۔ رہا تمہارا یہ طرزِ عمل، تو یہ 'باطل سے باطل کی طرف رجوع' ہے۔" (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
جواب:
سطحی نظر رکھنے والے اس روایت کو اچھال کر شادیانے بجاتے ہیں، مگر جب ہم علمِ رجال اور نقدِ حدیث کی چھلنی سے اسے گزارتے ہیں تو یہ دھول کی طرح اڑتی نظر آتی ہے۔
1. سند کا اضطراب اور انقطاعِ فاحش
مطبوعہ دو اہم ترین نسخوں (دکتور امین قلعجی اور حمدی سلفی) کے مطابق، "رستہ" (عبد الرحمن بن عمر) یہ روایت براہِ راست امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے نقل کر رہے ہیں۔
مگر علمِ رجال کی دنیا میں یہ ایک کھلا لطیفہ ہے! رستہ کی پیدائش 188ھ کی ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی وفات 182ھ میں ہو چکی تھی۔ یعنی رستہ اپنے پیدا ہونے سے چھ سال قبل وفات پا جانے والی ہستی سے مکہ کے مسجدِ حرام میں مکالمہ کر رہے ہیں! یہ ایسا انقطاعِ فاحش ہے جسے عقلِ سلیم تسلیم کرنے سے عاجز ہے۔
اگرچہ سرساوی کے تحقیق شدہ نسخہ میں رستہ کے بعد سند میں "ابن مہدی" کا نام مذکور ہے، لیکن سرساوی صاحب نے حاشیہ میں نسخوں کے اس شدید اختلاف کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو ایک محقق کے شایانِ شان بالکل نہیں ہے۔ نسخوں کا یہ شدید اختلاف اور اضطراب ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سند محفوظ نہیں ہے۔
2. رستہ کے تفردات اور روایت کی نکارت
عبد الرحمن بن عمر (رُستہ) اگرچہ بذاتِ خود ثقہ ہیں، لیکن محدثین نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی روایات نقل کرنے میں منفرد ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔
امام ابو الشیخ فرماتے ہیں: "غَرَائِبُ حَدِيْثِ رُسْتَه تَكْثُرُ" (رُستہ کی عجیب و غریب اور منفرد روایات بہت زیادہ ہیں)۔
علامہ ذہبی نے 'میزان الاعتدال' میں لکھا: "ثقة ينفرد ويغرب" (وہ ثقہ ہیں مگر منفرد اور غریب روایات لاتے ہیں)۔
یہ زیرِ بحث روایت بھی انہی کمزور اور منفرد روایات کا حصہ ہے، کیونکہ پورے ذخیرۂ حدیث اور تاریخِ فقہ میں اس کا کوئی دوسرا طریق یا تائیدی شاہد موجود ہی نہیں ہے۔
3. معاصرانہ چشمک اور حریف راویوں کا انقباض
بالفرضِ محال اگر ہم سرساوی کے نسخے کو مان کر سند کو متصل بھی تسلیم کر لیں، تو سند میں امام عبد الرحمن بن مہدی موجود ہیں۔ یہ بات مخفی نہیں کہ امام ابن مہدی اہل الرائے (احناف) کے معاملے میں شدید تعصب اور انقباض رکھتے تھے ۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
4. متن کی نکارت اور فقہِ حنفی سے صریح تضاد
اس روایت کا متن بذاتِ خود چیخ چیخ کر اپنے منکر ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔ روایت میں ایک عورت پر دو مردوں کے دعوے، قاضی کے بار بار فیصلہ بدلنے، اور ایک کے بعد دوسرے سے نکاح اور شب باشی کی بات تو ہے، مگر عدت کا کہیں ذکر ہی نہیں! سوال و جواب اتنے مبہم اور غیر منطقی ہیں جیسے کسی نے عناد میں اندھے ہو کر ایک طرفہ مفروضوں پر پوری گفتگو خود ہی گھڑ لی ہو۔
فقہِ حنفی کا اصل موقف تو اس کے بالکل برعکس ہے۔ امام مرغینانی رحمہ اللہ "الہِدَایَہ فی شرح بدایۃ المبتدی" (3/167) میں صراحت فرماتے ہیں:
قَالَ: «فَإِنْ ادَّعَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِكَاحَ امْرَأَةٍ وَأَقَامَا بَيِّنَةً لَمْ يُقْضَ بِوَاحِدَةٍ مِنَ الْبَيِّنَتَيْنِ» لِتَعَذُّرِ الْعَمَلِ بِهِمَا؛ لِأَنَّ الْمَحِلَّ لَا يَقْبَلُ الِاشْتِرَاكَ... وَإِنْ أَقَامَ الْآخَرُ الْبَيِّنَةَ قُضِيَ بِهَا... وَلَوْ تَفَرَّدَ أَحَدُهُمَا بِالدَّعْوَى وَالْمَرْأَةُ تَجْحَدُ فَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ وَقَضَى بِهَا الْقَاضِي لَهُ ثُمَّ ادَّعَى الْآخَرُ وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ لَا يُحْكَمُ بِهَا... إلَّا أَنْ يُؤَقِّتَ شُهُودُ الثَّانِي سَابِقًا..."
خلاصہ: فقہِ حنفی کے مطابق اگر دو مرد ایک عورت پر دعویٰ کریں اور گواہ نہ ہوں، تو عورت کی تصدیق کا اعتبار ہوتا ہے۔ اور اگر ایک کے حق میں فیصلہ ہو جائے تو بعد میں آنے والے دوسرے شخص کے حق میں فیصلہ تب تک نہیں بدلا جا سکتا جب تک وہ سابقہ تاریخ کے گواہ نہ لائے۔ یعنی قاضی یوں روز روز اپنی مرضی سے پینڈولم کی طرح فیصلہ نہیں بدل سکتا جیسا کہ اس جھوٹی روایت میں امام ابو یوسف کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
(نوٹ: بالفرضِ محال، اگر اس روایت کو تلازمہِ بحث کے لیے صحیح بھی مان لیا جائے، تو یہ ایک مجتہد کی اجتہادی گفتگو کہلائے گی، اور مجتہد کا اجتہاد اگر خطا پر بھی ہو تو شریعت میں اس کے لیے ایک اجر کا وعدہ ہے، نہ کہ طعن و تشنیع کا۔)
5. اصولِ اجتہاد سے دوری اور معترضین کو آئینہ
روایت میں ابنِ مہدی کی طرف منسوب یہ استدلال کہ "ایک رائے (ظن) سے دوسری رائے کی طرف رجوع کرنا باطل سے باطل کی طرف جانا ہے"، علمی اور اصولی طور پر انتہائی کمزور ہے۔ ایک مجتہد جب دلائل میں تدبر اور گہرے مطالعے کے بعد اپنی ایک رائے کو چھوڑ کر دوسری رائے اختیار کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس کے نزدیک قرآن و سنت کی صحیح تعبیر دوسری ہے، اور حق پرستی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرے۔
اگر ایک اجتہادی رائے سے دوسری اجتہادی رائے کی طرف رجوع کو "باطل سے باطل کی طرف جانا" قرار دیا جائے، تو پھر معترضین کو ان حقائق کا جواب دینا ہوگا:
امام شافعی رحمہ اللہ کے مصلحتِ وقت اور نظرِ ثانی کے تحت "مذہبِ قدیم" سے "مذہبِ جدید" کی طرف منتقلی کا کیا معنی رہ جاتا ہے؟ کیا وہ باطل سے باطل کی طرف گئے تھے؟ (معاذ اللہ)
نام نہاد اہلحدیث (غیر مقلدین) کے دورِ حاضر کے نام نہاد مجتہدین شیخ ناصر الدین البانی اور شیخ زبیر علی زئی نے اپنی زندگی میں کتنے ہی مسائل میں اپنے ہی سابقہ فتاویٰ سے رجوع کیا؟ نمازِ نبوی کے ہر نئے ایڈیشن میں پرانی تحکیمات سے اختلاف اور رجوع موجود ہے۔ کیا وہ سب باطل سے باطل کی طرف رجوع تھا؟
خود غیر مقلدین کے ہاں زبیر علی زئی کے نزدیک قربانی کے دن 3 ہیں، جبکہ کفایت اللہ سنابلی کے نزدیک 4 دن ہیں۔ اگر کوئی غیر مقلد عامی ایک غیر مقلد عالم کی تحقیق چھوڑ کر دوسرے غیر مقلد کی تحقیق اپناتا ہے، تو کیا وہ باطل سے باطل کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟
حاصلِ کلام
اس مفصل اور اصولی بحث سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ: اس منقطع، شاذ، اور منکر روایت سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے جلیل القدر شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا کوئی کلام یا ایسا موقِف سرے سے ثابت ہی نہیں ہوتا۔ یہ محض احناف سے بغض و عناد کا ایک شاخسانہ ہے جو علمی میدان میں اوندھے منہ گر چکا ہے۔ متبحر حنفی علماء ہمیشہ ایسے ادھورے اور باطل اعتراضات کا علمی تعاقب کرتے رہیں گے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں