اعتراض نمبر ۱۴: امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ہر رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ سے پہلے نہ پڑھے، صرف پہلی رکعت میں پڑھے۔
اعتراض نمبر ۱۴:
ثم عن أبي حنيفة أنه لا يأتي بها في أول كل ركعة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۷ باب صفة الصلوة)
یعنی امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ہر رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ سے پہلے نہ پڑھے، صرف پہلی رکعت میں پڑھے۔
(درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶)
جواب:
یہاں بھی معترض نے دیانت سے کام نہیں لیا۔ اسی سطر میں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
وعنه أنه يأتي بها احتياطا وهو قولهما. (هدايه ص ۸۷)
امام اعظم سے روایت ہے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پہلے احتیاطاً بسم اللہ پڑھے اور یہی قول امام ابو یوسف و امام محمد کا ہے۔
وہ روایت جس کو نقل کر کے معترض نے اعتراض کیا ہے، اگر اسے کتب فقہ پر نظر ہوتی تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس روایت کو فقہاء نے صحیح نہیں مانا۔ چنانچہ بحر الرائق جلد اول ص ۳۱۲ میں ہے:
قول من قال لا يسمى إلا في الركعة الأولى قول غير صحيح، بل قال الزاهدي إنه غلط على أصحابنا غلطًا فاحشًا.
یہ قول کہ صرف پہلی رکعت میں بسم اللہ پڑھی جائے غلط ہے۔ زاہدی فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب (ائمہ) کے ہاں یہ غلطِ فاحش ہے۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں