اعتراض نمبر ۱۹: اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔
اعتراض نمبر ۱۹:
فإن اقتصر على أحدهما جاز عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۰۰ باب صفة الصلوة)
یعنی اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔
جواب:
(درایت محمدی، ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷)
مگر مکروہ تحریمی ہے۔ امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد سب کے نزدیک سجدہ میں مسنون طریقہ یہی ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں زمین پر لگائے۔ اگر صرف پیشانی لگائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ اگر صرف ناک لگائے تو امام صاحب کی ایک روایت میں جائز ہے مگر مکروہ تحریمی، اور صاحبین جائز نہیں کہتے۔ شرح وقایہ میں اسی قول پر فتویٰ لکھا ہے کہ جائز نہیں۔
بلکہ شیخ عبد الحئی نے عمدۃ الرعایہ میں برہان شرح مواہب الرحمن، مراقی الفلاح اور مقدمہ غزنویہ سے نقل کیا ہے کہ امام اعظم نے اس مسئلہ میں صاحبین کے قول کی طرف رجوع کیا ہے۔
در مختار میں ہے کہ:
وكره اقتصاره في السجود على أحدهما ومنعا الاكتفاء بالأنف بلا عذر وإليه صح رجوعه وعليه الفتوى
سجدہ میں صرف ناک یا پیشانی پر اکتفا مکروہ ہے اور صاحبین نے ناک پر بلا عذر اکتفا مکروہ فرمایا ہے۔ امام اعظم کا رجوع اسی طرف صحیح ہوا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔
علامہ شامی نے اس قول کو ترجیح دی ہے۔ پس اس حالت میں فقہاء علیہم الرحمۃ نے تصریح کی ہے کہ سجدہ میں صرف ناک یا صرف پیشانی بلا عذر لگانا مکروہ تحریمی ہے جس سے نماز ناقص ہو جاتی ہے تو اس پر اعتراض کرنا تعصب یا جہالت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟
-------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں