نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۹ : کوئی شخص عیدگاہ پہنچا، نماز ہو رہی ہے، اسے خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو نماز ختم ہو جائے گی تو تیمم کر کے شامل ہو جائے۔


 اعتراض نمبر ۹

من حضرت العيد فخاف إن اشتغل بالطهارة أن تفوته العيد تيمم (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥٦ باب التيمم) یعنی کوئی شخص عیدگاہ پہنچا، نماز ہو رہی ہے، اسے خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو نماز ختم ہو جائے گی تو تیمم کر کے شامل ہو جائے۔ (درایت محمدی، ص ۹۱، ۹۲، ہدایت محمدی ص ۵)


جواب:


فرمائیے! یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ ایسے شخص کے لیے تم ہی بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حکم فرمایا ہے؟


اب ہم سے سنیے! ابن عباس نے فرمایا کہ جب تجھے خوف ہو کہ اگر میں وضو کروں گا تو جنازہ کی نماز فوت ہو جائے گی، تیمم کر کے نماز میں شامل ہو جاؤ۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:


عن ابن عباس: إذا خفت أن تفوتك الجنازة وأنت على غير وضوء فتيمم وصل. رواه ابن أبي شيبة. (تخريج زيلعي ج۱ ص۸۲)


ابن عمر ایک جنازہ پر تشریف لائے۔ آپ بے وضو تھے۔ آپ نے تیمم کر کے نماز پڑھی۔ اس اثر میں گو فوتِ جنازہ کی قید نہیں مگر یہ قید پہلے اثر میں موجود ہے اس لیے یہاں بھی یہی سمجھی جائے گی تا کہ آثار متعارض نہ ہوں۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:


عن ابن عمر أنه أتي بجنازة وهو على غير وضوء فتيمم ثم صلى عليها. رواه البيهقي في المعرفة. (جوهر النقي ج۱ ص ٥٩)


بوجہِ جہتِ جامعہ کے نمازِ جنازہ پر قیاس ہے۔ جہتِ جامعہ یہ ہے کہ جس طرح نمازِ جنازہ کا بدل نہیں، عید کا بھی کوئی بدل نہیں۔ اس لیے جو حکم اس مسئلہ میں جنازہ کا ہے وہی عید کا ہے کہ فوت کا خوف ہو تو تیمم کر کے شامل ہو جائے۔


اس کے علاوہ شیخ عبدالحئی نے حاشیہ ہدایہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے نمازِ عید میں بھی تیمم کر کے مل جانا لکھا ہے بشرطیکہ نماز کے فوت کا خطرہ ہو، چنانچہ فرمایا:


ونقل ابن عمر في صلاة العيد مثله


یعنی نمازِ عید میں اسی طرح عبد اللہ بن عمرؓ سے منقول ہے۔


معلوم ہوا کہ یہ صحابہ کرام سے ثابت ہے اور اس کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی۔ جن احادیث میں لا صلاة إلا بطهور آیا ہے وہ اس کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ تیمم بھی طہور ہی تو 

ہے۔


------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...