اعتراض نمبر ۱۶:
أن الاستواء قائما فليس بفرض. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۹ باب صفة الصلوة)
یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا فرض نہیں۔
(درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶)
جواب:
بے شک امام اعظم کی مشہور روایت میں یہ تینوں امور فرض نہیں لیکن سنت بلکہ واجب ضرور ہیں۔ قومہ، جلسہ کے تارک اور رکوع و سجود میں آرام کے تارک کی نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ہدایہ شریف میں صاف تصریح ہے کہ قومہ، جلسہ امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک سنت ہے۔ اسی طرح رکوع و سجود میں آرام کرنا تخریجِ جرجانی میں سنت اور تخریجِ کرخی میں واجب ہے۔
چنانچہ فرمایا:
ثم القومة والجلسة سنة عندهما وكذا الطمأنينة في تخريج الجرجاني وفي تخريج الكرخي واجبة.
اگر معترض صاحبِ انصاف ہوتا تو صاف لکھ دیتا کہ قومہ، جلسہ و طمانیت امام صاحب کے نزدیک فرض نہیں لیکن سنت بلکہ واجب ہے، پھر امام صاحب کے قولِ سنت یا وجوب کے خلاف اگر دلیل رکھتا تو پیش کرتا۔ یہ تو نہ کر سکا البتہ یہ کہہ دیا کہ امام صاحب کہتے ہیں کہ فرض نہیں۔
معترض کو اگر کتب فقہ میں نظر ہوتی تو اسے معلوم ہو جاتا کہ قومہ، جلسہ و طمانیت کے وجوب کا قول ہی حنفی مذہب میں صحیح ہے۔ چنانچہ تعدیلِ ارکان کو صاحب کنز وغیرہ نے واجبات میں شمار کیا ہے۔
بحر الرائق ج ۱ ص ۲۹۹ میں ہے:
هو تسكين الجوارح في الركوع والسجود حتى تطمئن مفاصله وأدناه مقدار تسبيحة وهو واجب على تخريج الكرخي وهو الصحيح.
رکوع و سجود میں اعضاء کا آرام پکڑنا یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پکڑیں اور ادنیٰ اس کا ایک تسبیح ہے، یہ کرخی کی تخریج کے مطابق واجب ہے اور یہی صحیح ہے۔
پھر آگے فرمایا:
والذي نقله الجم الغفير أنه واجب عند أبي حنيفة ومحمد
وہ جو اکثر لوگوں نے نقل کیا ہے یہی ہے کہ تعدیلِ ارکان امام صاحب اور امام محمد کے نزدیک واجب ہے۔
پھر آگے فرماتے ہیں:
والقول بوجوب الكل هو مختار المحقق ابن الهمام وتلميذه ابن أمير حاج حتى قال إنه الصواب.
قومہ، جلسہ و طمانیت کے وجوب کا قول ہی ابن ہمام کا پسندیدہ ہے اور اس کے شاگرد ابن امیر حاج کو بھی یہی پسند ہے حتیٰ کہ اس نے کہا: "یہی صواب ہے۔"
علامہ شامی نے بھی اس کو ترجیح دی ہے کہ امام صاحب کے نزدیک رکوع کے بعد کھڑا ہونا، سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور رکوع و سجود میں آرام کرنا واجب ہے اور واجب کے ترک سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، جس کا اعادہ واجب ہے۔
پس اتنے صاف اور واضح مسئلہ پر اعتراض کرنا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اس معترض کا مقصد ہے کہ عوام کو مغالطہ میں ڈالا جائے۔ جب یہ لکھا جائے کہ قومہ، جلسہ و طمانیت امام صاحب کے نزدیک فرض نہیں تو عوام یہی سمجھیں گے کہ امام صاحب کے نزدیک قومہ، جلسہ اور آرام فی الرکوع والسجود کے ترک سے نماز میں کوئی نقص نہیں، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ امام صاحب ایسی نماز کو جس میں قومہ، جلسہ نہ ہو، دوبارہ پڑھنا واجب فرماتے ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں