نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۳۶ : کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس سے عدت کے اندر زنا کیا، یا طلاقِ بائن مال لے کر دے دی پھر عدت میں زنا کیا، اور ام ولد لونڈی کو آزاد کر دیا اور عدت میں اس سے زنا کاری کی، اور غلام نے اپنے آقا کی لونڈی سے زنا کیا، اگر یہ لوگ کہہ دیں کہ ہم نے اسے حلال جانا تھا تو ان میں سے کسی پر حد نہیں۔

 


اعتراض نمبر ۳۶


والمطلقة ثلاثا وهي في العدة وبائنا بالطلاق على مال وهي في العدة وأم ولد أعتقها مولاها وهي في العدة. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٢ باب الوطء الذي يوجب)


یعنی کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس سے عدت کے اندر زنا کیا، یا طلاقِ بائن مال لے کر دے دی پھر عدت میں زنا کیا، اور ام ولد لونڈی کو آزاد کر دیا اور عدت میں اس سے زنا کاری کی، اور غلام نے اپنے آقا کی لونڈی سے زنا کیا، اگر یہ لوگ کہہ دیں کہ ہم نے اسے حلال جانا تھا تو ان میں سے کسی پر حد نہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹)


جواب:


مندرجہ بالا تمام صورتوں میں شبۂ فعل کے باعث حد ساقط ہے۔ مطلقہ ثلاثہ کی اگرچہ حرمت قطعی ہے لیکن بعض احکامِ نکاح کے بقا سے مظنۂ حلت کا شبہ پڑ گیا، مثلاً وجوبِ نفقہ، منعِ خروج اور ثبوتِ نسب وغیرہ۔ اس کے حلت کے ظن کا اسقاطِ حد میں اعتبار کیا گیا اور وہی حدیث "ادرؤوا الحدود بالشبهات" اپنے اطلاق کے سبب اس کو بھی شامل ہوئی۔


اسی طرح ام ولد جس کو اس کے مالک نے آزاد کیا، اور مطلقہ علی المال بمنزلہ مطلقہ ثلاثہ کے ہے کہ ان میں بھی بعض آثارِ ملک کا بقا موجبِ ظنِ حلت ہے۔


اسی طرح غلام کا اپنے آقا کی لونڈی سے زنا کرنا بسببِ انبساط موجبِ ظنِ حلت ہے کہ غلام اپنے آقا کے مال کو خرچ کر سکتا ہے اور لونڈی آقا کا مال ہے۔ ہو سکتا ہے کہ غلام اس کو حلال ظن کرے، لہٰذا اس کے ظن کا اعتبار کرتے ہوئے اس شبہ کی بنا پر حد ساقط کر دی گئی۔


ہاں! مندرجہ بالا صورتوں میں حلت کا ظن نہ ہو بلکہ حرام جانتے ہوں پھر زنا کریں تو حد ضرور واجب ہوگی۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے:


ولو قال علمت أنها علي حرام وجب الحد.


اگر کہے کہ مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ پر حرام ہے تو حد واجب ہوگی۔


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...