اعتراض نمبر ۵۱: خشک لکڑیاں اور گھاس اور بانس اور مچھلی اور پرند جیسے مرغ، بط، کبوتر وغیرہ اور ہڑتال اور سرخ مٹی اور قلعی، چونے کا جو چور ہو اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔
اعتراض نمبر ۵۱:
لا يقطع كالخشب والحشيش والقصب والسمك والصيد والزرنيخ والمغر والنورة، ويدخل في الطير الدجاج والبط والحمام. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٧ باب ما يقطع فيه)
یعنی خشک لکڑیاں اور گھاس اور بانس اور مچھلی اور پرند جیسے مرغ، بط، کبوتر وغیرہ اور ہڑتال اور سرخ مٹی اور قلعی، چونے کا جو چور ہو اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔
(ہدایت محمدی ص ۱۰، درایت محمدی ص ۱۰۰)
جواب:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حقیر چیزوں میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔
اس کو ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند اور مصنف دونوں کتابوں میں روایت کیا ہے، اور عبدالرزاق نے اپنی مسند اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں بھی مرسلاً روایت کیا، اور ابن عدی نے مسنداً روایت کیا ہے۔
(نصب الرایہ ج ۳ ص ۳۶۰، بحوالہ نصر الفقه ص ۵۷۰، اعلاء السنن جلد ۳ ص ۵۹۵)
اس حدیث سے ایک ایسا اصول معلوم ہوتا ہے جس سے بہت سے مسائل کا حل نکل آتا ہے، وہ یہ ہے کہ جو چیز معاشرہ میں یا عرف میں، یا جس چیز کو لوگ حقیر سمجھتے ہوں، ان کی چوری
پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
ہدایہ میں یہاں پر خشک لکڑیوں سے مراد وہ لکڑیاں ہو سکتی ہیں جو جنگلوں سے لوگ مفت میں چن چن کر لاتے ہیں اور گھاس پوس کو بھی حقیر چیزوں میں ہی شمار کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی چوری پر حد نہیں ہے۔
فائدہ: (حقیر) چیز سے دس درہم سے کم والی چیز بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ اس اصول کے معلوم ہونے کے بعد اب الگ الگ ہر ہر چیز کا حکم بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ فقہاء نے اس ایک حدیث سے ہی کئی مسئلے حل فرما دیے ہیں۔
اس اعتراض میں دوسری چیز پرندوں خاص کر مرغ، بطخ، کبوتر کی چوری کا ذکر ہے کہ ان کی چوری پر بھی حد نہیں لگے گی۔ (یعنی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا) یہ مسئلہ بھی حدیث میں موجود ہے، فقہاء نے اپنے پاس سے نہیں بنایا۔
حدیث:
عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے مرغی چرائی تھی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تو سلمہ بن عبد الرحمن نے ان سے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ پرندہ چوری کرنے میں قطعِ ید نہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ اعلاء السنن مترجم، ج ۳، ص ۵۹۵)
حدیث:
یزید سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے پرندہ چوری کرنے میں ہاتھ کاٹا ہو، اور چور پر پرندہ چوری کرنے میں قطعِ ید نہیں ہے۔ پس عمر بن عبد العزیز نے اسے چھوڑ دیا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ اعلاء السنن مترجم، ج ۳، ص ۵۹۵)
فائدہ: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ پرندہ چوری کرنے میں چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور حضرت عثمان کی رائے سے کوئی صحابی مخالف معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن یاد رکھیے کہ یہ جرم سزا و تعزیر والا ہے، لہٰذا حاکمِ وقت اپنی صوابدید پر اسے تعزیراً کوئی سزا دے سکتا ہے۔ احناف صرف یہ کہتے ہیں کہ اس پر حد نہیں۔ اگر کسی کے پاس اس خاص واقعہ کے متعلق قرآن میں یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی دلیل ہو تو وہ پیش کرے، ہم اس کو مان لیں گے۔ رہی سرخ مٹی وغیرہ تو یہ غیر محفوظ بھی ہیں اور حقیر بھی، اس کی چوری پر بھی حد اس لیے نہیں۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ جس جرم پر حد نہیں ہوتی وہ جائز نہیں ہو جاتا بلکہ وہ گناہ کا کام ہی ہوتا ہے، اس کی سزا و تعزیر ہوتی ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں