اعتراض نمبر ۵۵
لا في سرقة المصحف وإن كان عليه حلية.
(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٨ باب ما يقطع فيه)
یعنی قرآن شریف کے چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے اگرچہ وہ سونے کے کام والا ہو۔
(درایت محمدی ص ۱۰۰، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جواب:
شرح وقایہ میں مذکور ہے کہ:
لأنه يقول أخذته للقراءة.
(شرح وقايه، ج ٢، ص ٣١٩)
کیونکہ ممکن ہے کہ چور یہ کہہ دے کہ میں تو تلاوت کرنے کے لیے لایا ہوں تو یہ چوری نہیں، کیونکہ چور کے یہ کہہ دینے سے شبہ واقع ہو گیا۔ جس چیز میں شبہ واقع ہو جائے تو حدیث کے مطابق اس میں حد ساقط ہو جاتی ہے۔
حدیث:
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ کہا انہوں نے کہ فرمایا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے: دفع کرو اور ٹالو حدودوں کو مسلمانوں سے جہاں تک کہ تم سے ہو سکے، پھر اگر ہو سکے مجرم کی شکل رہائی کی تو چھوڑ دو اس کو، اس لیے امام اگر خطا کر کے بخش دے تو یہ بہتر ہے اس سے کہ خطا کر کے عذاب کرے۔
(ترمذی مترجم علامہ بدیع الزمان غیر مقلد، ج ۱، ص ۵۳۵، ابواب الحدود باب ما جاء في درء الحدود)
اس حدیث کے حاشیہ میں "دفع کرو اور ٹالو" الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے مترجم لکھتے ہیں:
یعنی تعلیم و تلقین کرو کہ شاید تو دیوانہ ہو گیا ہے یا نشہ میں ہے یا زنا سے بوسہ وغیرہ مراد لیتا ہے۔
(ترمذی مترجم، ج ۱، ص ۵۳۵)
اس سے معلوم ہوا کہ جتنا بھی ہو سکے مجرم کو حد لگنے سے بچاؤ کیونکہ شریعتِ اسلامیہ کسی کو بلا وجہ لنگڑا لولا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
حدیث:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک حد لگانے سے بچاؤ کی گنجائش ملے حد رفع کرو۔
(ابن ماجہ ابواب الحدود باب الستر على المؤمن ودفع الحدود بالشبهات، مسند ابو یعلیٰ ج ۱۱، ص ٤٩٤، باب ادرؤوا الحدود ما استطعتم)
فقہاء نے ان احادیث کی وجہ سے حد کو ساقط کیا ہے اور خود فریقِ مخالف کا نظریہ بھی یہی ہے۔
علامہ وحید الزمان غیر مقلد لکھتے ہیں:
ولو سرق مصحفًا لا تقطع.
اگر مصحف چرا لیا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(كنوز الحقائق في فقه خير الخلائق ص ۱۹۸)
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں