اعتراض نمبر ۵۷
لا الصليب من الذهب ولا الشطرنج ولا النرد.
(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٩ باب ما يقطع فيه)
یعنی سونے کی صلیب اور شطرنج اور پانسے چرانے والے کے ہاتھ نہ کاٹنے چاہئیں۔
(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جواب:
ہدایہ میں اس عبارت سے آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ بھی لکھی تھی، وہ جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ وہ عبارت یہ ہے:
کیونکہ اسے لینے والا نہی عن المنکر پر عمل کرتے ہوئے توڑنے کی تاویل کر دے گا، برخلاف اس درہم کے جس پر تصویر بنی ہوئی ہو کیونکہ وہ عبادت کے لیے نہیں بنائی گئی ہے، لہٰذا اباحتِ کسر کا شبہ ثابت نہیں ہوگا۔ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ اگر صلیب گرجا گھر میں ہو تو عدمِ حرز کی وجہ سے قطعِ ید نہیں ہوگا، اور اگر دوسرے گھر میں ہو تو قطعِ ید ہوگا، کیونکہ مالیت اور حفاظت مکمل ہے۔
شارح ہدایہ مولانا ثمیر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
تشریح: صلیب نصاریٰ کے پوجنے کے لیے ہے جو ناجائز ہے اور غیر متقوم ہے، اور شطرنج اور نرد کھیل کود کی چیز ہے جو نفیس نہیں بلکہ حقیر ہے۔
(اثمار الہدایہ ج ۷، ص ۲۲۔۲۳)
اس اعتراض میں تین چیزوں کا ذکر ہے:
(۱) صلیب
(۲) شطرنج
(۳) نرد (یہ بھی ایک کھیلنے کی چیز ہے)
ہم یہاں پر تینوں کے متعلق کچھ وضاحت کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
پہلی کے بارے میں صاحب ہدایہ نے خود کافی وضاحت کر دی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چور یہ کہے گا کہ میں نے تو بدی سے روکنے کے لیے اور اس کو توڑنے کے لیے چرایا ہے۔ یہاں پر شبہ آ گیا اور یہ حکم بھی گرجا گھر سے چرانے کا ہے۔
آگے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: اگر یہ صلیب کی تصویر درہم پر بنی ہوئی ہے (جیسے ہمارے ہاں نوٹوں پر قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے) کیونکہ درہم کرنسی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبادت کے لیے نہیں بنائی گئی، تو درہم چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کہ یہاں پر توڑنے کے مباح ہونے کا شبہ نہیں ہے۔
امام ابو یوسف کا مسلک:
امام ابو یوسف کی ایک روایت یہ ہے کہ اگر صلیب گرجا گھر میں تھی اور اسے چرایا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ گرجا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے، اور اگر صلیب کسی آدمی کے گھر میں ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ نصاب کا مال بھی مکمل ہے اور محفوظ بھی ہے۔ صاحب ہدایہ نے تو بات ساری سمجھا دی تھی اور ہر آدمی کی سمجھ میں بھی آجاتی ہے مگر جوناگڑھی نے بات پوری نہیں بتائی۔
دوسری چیز:
دوسری چیز ہے شطرنج چرانے کا مسئلہ۔ فقہ حنفی میں شطرنج کھیلنا حرام فعل ہے اور یہ کھیل کود کی چیزوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی برائی قرآن سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(پارہ نمبر ۲۱، سورہ لقمان آیت نمبر ۶)
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو خریدتے ہیں کھیل کی باتوں کو تاکہ گمراہ کریں اللہ کے راستے سے بغیر علم کے اور بناتے ہیں ان چیزوں کو ہنسی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلت ناک عذاب ہے۔
(ترجمہ سواتی)
اس آیت سے ثابت ہوا کہ یہ کھیل کود کی چیز ہے اور مسلمانوں کی نظروں میں اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔
تیسری چیز:
تیسری چیز نرد ہے۔ نردشیر کے بارے میں مسلم شریف کتاب الشعر باب تحريم اللعب بالنردشير میں حضرت بریدہ کی روایت ہے جس کے الفاظ اس طرح ہیں:
بریدہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چوسر کھیلا اس نے گویا اپنے ہاتھ سے سور کے گوشت اور سور کے خون سے رنگے۔
(مسلم مترجم علامہ وحید الزمان غیر مقلد، ج ۵، ص ۴۱۸)
ان دلائل سے ان چیزوں کا حقیر ہونا ثابت ہوا جس کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں