اعتراض نمبر ۴۰ : جو شخص کسی عورت کی یا مرد کی پاخانہ کی جگہ میں بدکاری کرے تو اس پر حد نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔
اعتراض نمبر ۴۰
من أتى امرأة في الموضع المكروه أو عمل عمل قوم لوط فلا حد عليه عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ٤٩٥ باب الوطء الذي يوجب الحد)
یعنی جو شخص کسی عورت کی یا مرد کی پاخانہ کی جگہ میں بدکاری کرے تو اس پر حد نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۸، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
فتح القدیر میں ہے:
ولكن يعزر ويسجن حتى يموت أو يتوب ولو اعتاد اللواطة قتله الإمام محصنا كان أو غير محصن سياسة، أما الحد المقرر شرعا فليس حكما له.
شرعی حد، رجم یا جلد، اس کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اس کو تعزیر لگائی جائے گی۔ وہ یہاں تک قید میں رکھا جائے کہ مر جائے یا توبہ کرے۔
اگر لواطت کی عادت پکڑ لے تو امام اس کو قتل کر دے خواہ وہ محصن ہو یا غیر محصن۔
پس اگر معترض کے پاس کوئی ایسی حدیث ہو جس سے ثابت ہو کہ غیر فطری فعل کرنے والے کو سنگسار کیا جائے یا سو کوڑے مارے جائیں تو وہ حدیث پیش کی جائے ورنہ اپنا اعتراض واپس لے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں